.

امریکا ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی دوبارہ پابندیوں کے نفاذ کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خزانہ اسٹوین نوشین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بہت جلد دوبارہ بین الاقوامی پابندیاں عاید کردی جائیں گے۔ ان کے بہ قول اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ایران کے خلاف جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے باضابطہ طور پر میکانزم کو فعال کردیا ہے۔

اسٹوین نوشین نے بدھ کے روز سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’ میں نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ (اس موضوع پر) براہ راست تبادلہ خیال کیا ہے۔اس کے علاوہ سیکریٹری (وزیر خارجہ) پومپیو نے بھی بات چیت کی ہے۔‘‘

وزیر خزانہ نے امریکی چینل سے گفتگو میں کہا:’’ میرے خیال میں آپ نے دیکھا کہ ای 3 (مذکورہ تین یورپی ممالک) نے بیان جاری کیا ہے اور تنازع کے حل کا میکانزم فعال کردیا ہے۔ہم ان کے ساتھ مل کر فوری طور پر کام کرنے کو تیار ہیں اور یہ توقع کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ العمل ہوجائیں گی۔‘‘

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ایران کی جانب سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں منگل کے روز تنازع کے حل کا میکانزم فعال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ان تینوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں شامل نہیں ہورہے ہیں۔