.

ایران کا تباہ شدہ مسافر طیارے کے بلیک باکسز یوکرین بھیجنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اسی ماہ دارالحکومت تہران کے نواح میں سپاہ پاسداران انقلاب کے میزائل حملے میں تباہ شدہ مسافر طیارے کے بلیک باکسز یوکرین بھیج رہا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز شہری ہوابازی کی تنظیم میں حادثات سے متعلق امور کے ڈائریکٹر حسن رضائی فر کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بلیک باکسز کے ڈیٹا کا فرانس ، کینیڈا اور امریکا سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی تجزیے میں شامل ہوں گے اور ایرانی حکام اس کے لیے بھی تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ان ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی مدد سے یوکرینی دارالحکومت کیف میں فلائٹ کے ڈیٹا ریکارڈر کو پڑھنے کی کوشش کریں گے۔اگر یہ کوشش ناکام رہتی ہے تو پھر بلیک باکسز کو فرانس بھیجیں گے۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ بلیک باکسز کے ڈیٹا کا ایران میں تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ فرانس ان چند ایک ممالک میں سے ہے جو جیٹ کے فلائٹ اور کاکٹ پٹ ڈیٹا ریکارڈر کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں یوکرین کے تباہ شدہ طیارے کے بلیک باکسز کو فرانس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

8 جنوری کو یوکرین انٹرنیشنل ائیرلائنز کا بوئنگ 737-800 تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے تھوڑی دیر بعد میزائل لگنے سے تباہ ہو گیا تھا۔یہ مسافر طیارہ یوکرین کے دارالحکومت کیف جارہا تھا اور اس میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان مہلوکین میں 57 ایرانی نژاد کینیڈین شہری تھے۔ان سمیت 138 مسافر کینیڈا جارہے تھے۔11 مہلوکین کا تعلق یوکرین سے تھا۔17 سویڈن کے شہری تھے، چار افغان اور چار برطانوی شہری تھے اور باقی تمام ایرانی تھے۔ کینیڈا ، یوکرین ، سویڈن ، افغانستان اور برطانیہ نے ایران سے ان مہلوکین کے سوگوار خاندانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مسافر طیارے کی تباہی کے واقعے کی آزادانہ ، شفاف اور مکمل بین الاقوامی تحقیقات پر زوردیا ہے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی فضائی فورس نے 11جنوری کو یوکرین کے مسافر طیارے کو مارگرانے کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے ایک آپریٹر نے غلطی سے اس طیارے کوکروز میزائل سمجھ لیا تھا اوراس پرمیزائل داغ دیا تھا۔

پاسداران انقلاب کی فضائی فورس کے سینیر کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے اس انسانی غلطی پر معذرت کی تھی۔ لیکن اس سنگین غلطی کے خلاف تہران اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور مظاہرین نے واقعے کے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔