.

سعودی عرب کی چینی شہر ووہان میں موجود اپنے شہریوں کو انخلا کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے مہلک وائرس کرونا سے متاثرہ چین کے شہر ووہان میں موجود اپنے شہریوں کو انخلا کی ہدایت کی ہے اور ان سے کہا ہے وہ اس سلسلے میں بیجنگ میں سعودی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔

چین میں کرونا وائرس کے پھیلنے سے اس وقت بارہ سو سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں اور اکتالیس جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ چینی حکام نے اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ووہان کا ملک کے دوسرے علاقوں سے زمینی اور فضائی ٹریفک کے ذریعے رابطہ منقطع کردیا ہے اور اس کے مکینوں کو کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہے۔

چینی حکومت نے گذشتہ بدھ کو ٹرینوں ، طیاروں اور دوسری ٹرانسپورٹ کی ووہان میں آمد ورفت معطل کردی تھی اور اندرون شہر بھی ٹرانسپورٹ کا نظام منقطع کردیا تھا۔اس کے ارد گرد واقع سولہ مزید شہروں میں بھی زمینی اور فضائی ٹرانسپورٹ نظام کے ذریعے روابط منقطع کردیے ہیں۔ان تمام شہروں کی مجموعی آبادی پانچ کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ لندن ، نیویارک ، پیرس اور ماسکو کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب کے محکمہ شہری ہوابازی نے اپنے طور پر ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ چین سے آنے والی تمام براہ راست یا بالواسطہ پروازوں کے لیے پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔اس اقدام کے تحت چین سے پروازوں کے ذریعے آنے والے مسافروں کی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر سکریننگ کی جارہی ہے۔

دریں اثناء چینی صدر شی جین پنگ نے خبردار کیا ہے کہ چین کو سارس کی طرح کا نیا وائرس پھیلنے کے بعد سے سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔چین کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق اس مہلک وائرس سے ملک بھر میں قریباً تیرہ سو افراد متاثر ہوئے ہیں۔