.

فرانس کابحرِمتوسط میں ترکی کے مقابلے میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے بحرمتوسط کے مشرقی حصے میں ترکی کی حالیہ مہم جوئی کے ردعمل میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹکیس نے فرانس کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترکی کی اس کے ہمسایہ ممالک یونان اور قبرص کے ساتھ بحر متوسط میں تیل اور گیس نکالنے اور معدنیات کی تلاش کے معاملے پر کشیدگی پائی جارہی ہے۔ترکی نے بحر متوسط کے پانیوں میں ڈرلنگ کے لیے جہاز بھیجے ہیں۔بین الاقوامی قانون کے تحت یہ علاقہ قبرص کا ملکیتی تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ترک جمہوریہ شمالی قبرص ان علاقوں پر دعوے دار ہے مگر اس ریاست کو صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔

یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹکیس نے کہا ہے کہ فرانسیسی بحری جہاز علاقے میں ’’امن کے ضامن‘‘ ہوں گے۔ان کے بہ قول’’ یونان اور فرانس اب تزویراتی دفاع کے ایک نئے فریم ورک پرعمل پیرا ہیں۔‘‘

انھوں نے پیرس کے دورے کے موقع پر فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ’’بحر متوسط کے مشرق میں اختلافات کا خاتمہ صرف بین الاقوامی انصاف کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔‘‘

ترکی نے نومبر میں لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ فایزالسراج حکومت سے ایک معاہدے دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ترکی بحر متوسط کے جنوبی ساحلی علاقے سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک ایک خصوصی اکنامک زون قائم کرے گا۔یونان اور قبرص نے اس سمجھوتے کو سمندر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ان دونوں ملکوں کا ایک عرصے سے ترکی کے ساتھ سمندری اور علاقائی حدود پر تنازع چلا آرہا ہے۔

اس ڈیل کو یورپی یونین ، مصر اور جی این اے کی مخالف مشرقی شہر بن غازی میں قائم حکومت نے مسترد کردیا تھا۔فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے بدھ کو ایک بیان میں ترکی اور لیبیا کے درمیان اس ڈیل پر دوٹوک الفاظ میں افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ترکی نے جی این اے کی حکومت کی حمایت میں طرابلس میں اپنے فوجی بھیجے ہیں اور اس پر شام سے بحری جہازوں کے ذریعے جنگجوؤں کو لیبیا منتقل کرنے کا بھی الزام عاید کیا جارہا ہے۔

فرانسیسی صدرماکروں نے اپنے جنگی بحری جہاز بحرِ متوسط میں بھیجنے کے اعلان سے قبل ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن پر لیبیا کے بارے میں اپنے قول کو نہ نبھانے کا الزام عاید کیا تھا۔ان کے بہ قول ترک صدر نے عالمی لیڈروں سے لیبیا میں غیرملکی مداخلت کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔

عمانوایل ماکروں نے یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹکیس سے ملاقات کے بعد کہا تھا:’’ہم نے حالیہ دنوں میں ترک جہازوں کو شامی جنگجوؤں کو لےکرلیبیا کی سرزمین پر پہنچتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’صدر ایردوآن نے برلن کانفرنس میں جو وعدہ کیا تھا،یہ اس کی واضح خلاف ورزی ہے۔‘‘اس کانفرنس میں عالمی لیڈروں نے لیبیا کے تنازع میں مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’’طیب ایردوآن اپنے الفاظ کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔‘‘