.

امریکی پابندیوں کا توڑ،ایرانی شہری روزے رکھیں: مشیراعلیٰ خامنہ ای کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری امور کے مشیراعلیٰ نے امریکا کی پابندیوں کے مقابلے کے لیے اپنے ہم وطنوں کو ایک انوکھی تجویز پیش کردی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ پابندیوں سے نمٹنے کے لیے روزے رکھیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے اتوار کو سابق وزیردفاع حسین دہقان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ایرانیوں کو سابق رہبراعلیٰ روح اللہ خمینی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور انھیں امریکی پابندیوں کے ردعمل میں روزے رکھنے چاہییں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم‘‘ جاری رکھی ہوئی ہے اور اس نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد سے ایرانی شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عاید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے ایک نئی ڈیل چاہتے ہیں جس میں اس کے جوہری پروگرام ،اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ اوسط کے خطے میں ایرانی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیاہو۔امریکا ایران پر اپنی گماشتہ تنظیموں کے ذریعے خطے کے ممالک میں مداخلت کا الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ کسی ایرانی عہدہ دار نے اپنے ہم وطنوں کو امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کم خوراکی یا روزے رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ایران کے وزیر توانائی رضا اردکانیان نے 2019ء میں ایک بیان میں ایرانیوں کی کھانے کی عادات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے کھانے کے معمولات کا چینی عوام سے موازنہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ چینی عوام دن میں ایک کھانے سے بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔

ایران کی شورائے نگہبان کے چیئرمین احمد جنتی نے بھی 2014ء میں اسی سے ملتا جلتا بیان دیا تھا اور ایرانیوں کو بسیارخوری کی عادت پر قابو پانے کا مشورہ دیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ ’’اگر امریکی پابندیوں سے صورت حال زیادہ خراب ہوتی ہے تو پھر دن میں صرف ایک ہی کھانا کافی ہے اور یہی پابندیوں کا قابل عمل توڑ ہونا چاہیے۔‘‘