.

جنیوا: لیبیا کے متحارب فریقوں میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں سوموار کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے مشترکہ فوجی کمیشن کے تحت ان مذاکرات میں لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے مقرر کردہ پانچ سینیر حکام اور جنرل خلیفہ حفتر کے زیرقیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کے پانچ سینیرافسر شریک ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے لیبیا غسان سلامہ ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے غیرملکی کرداروں کی لیبیا کے داخلی امور میں بے جا مداخلت پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جرمن دارالحکومت برلن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی لیڈروں نے لیبیا میں غیرملکی مداخلت ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور اس ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے متحارب فریقوں کو اسلحہ فروخت کرنے پرعاید پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیبیا2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی نیٹو کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں اور ان کے تحت فوجیں اور ملیشیائیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ آزما ہیں۔

لیبیا میں جاری تنازع کو گذشتہ سال اپریل میں جنرل خلیفہ حفتر کی دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کے بعد مہمیز ملی تھی۔طرابلس پر وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت جی این اے کی حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کا ملک کے جنوب اور مشرق میں کنٹرول ہے۔