.

لیبیا کےمتحارب فریقوں میں جنگ بندی کے بغیرمذاکرات ختم،اقوام متحدہ کی دوسرے دور کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں جاری امن مذاکرات جنگ بندی کے لیے کسی سمجھوتے کے بغیرختم ہوگئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے 18 فروری کو فریقین میں مذاکرات کے ایک نئے دور کی تجویز پیش کی ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے لیبیا غسان سلامہ کی نگرانی میں ان مذاکرات کا مقصد طرابلس میں وزیر اعظم فایزالسراج کے زیرقیادت حکومت اور مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والی قومی فوج کے درمیان جاری لڑائی کا خاتمہ ہے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دونوں فریقوں نے مذاکرات کو جاری رکھنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے تاکہ جنگ بندی کے لیے کوئی جامع سمجھوتا طے پاسکے۔مشن نے لیبی فریقوں کے درمیان 18 فروری کو جنیوا میں مذاکرات کے نئے دور کی تجویز پیش کی ہے۔‘‘

عالمی ایلچی غسان سلامہ نے قبل ازیں کہا کہ ’’دونوں فریقوں نے اپنی جنگ بندی کو مکمل سیزفائرمیں تبدیل کرنے سے اتفاق کیا ہے لیکن ان میں بعض نکات میں اختلاف رائے پایاجاتا ہے۔‘‘

لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں گذشتہ سوموار کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام ان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ان مذاکرات میں لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے مقرر کردہ پانچ سینیر حکام اور جنرل خلیفہ حفتر کے زیرقیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کے پانچ سینیرافسروں نے شرکت کی ہے اور ان پر مشتمل ایک مشترکہ فوجی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس نے فریقین میں جنگ بندی کے لیے مختلف امور کا جائزہ لیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی لیڈروں نے لیبیا میں غیرملکی مداخلت ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور اس ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے متحارب فریقوں کو اسلحہ فروخت کرنے پرعاید پابندی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

لیبیا2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے نیٹو کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں قتل اور حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں اور ان کے تحت فوجیں اور ملیشیائیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ آزما ہیں۔

لیبیا میں جاری تنازع کو گذشتہ سال اپریل میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت فوج کی دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کے بعد مہمیز ملی تھی۔دارالحکومت طرابلس سمیت ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں پر وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت جی این اے کی حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کا ملک کے جنوب اور مشرق میں کنٹرول ہے۔