.

عمرالبشیر کی عالمی فوجداری عدالت کو حوالگی انصاف کا تقاضا ہے: ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے کہا ہے کہ سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر کو عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو حوالے کرنا انصاف کا تقاضا ہے۔ عمرالبشیر کے خلاف عالمی عدالت میں تحقیقات سے ظلم کا شکار ہونے والے افراد اور خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

منگل کے روز سوڈان کے وزیر اطلاعات فیصل محمد صالح نے کہا تھا کہ حکومت صوبہ دارفر کے باغی گروپوں کے ساتھ مل کر سابق حکومت کے اشتہاری قرار دیے گئے عہدیداروں کو ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے کو تیار ہے۔

خیال رہے کہ عمر البشیر کو دارفر میں انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ سوڈانی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت کب تک سابق عہدیداروں کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات میں تحقیقات کے لیے عالمی عدالت کے حوالے کرے گی۔

ادھر سوڈان کی خود مختار کونسل کے رکن محمد التعایشی نے کہا ہے کہ دارفر کے باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آئی سی سی کو مطلوب سابق حکومت کے عہدیداروں کو حوالے کردیا جائےگا۔

تاہم التعایشی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا عمر البشیر کو بھی عالمی عدالت کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں۔ عمر البشیر کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے کے لیے خرطوم کو معاہدہ روم کا حصہ بننا ہوگا۔

گذشتہ برس فوج کے ہاتھوں برطرف ہونے والے سوڈان کے صدر عمرالبشیر پر دارفر میں بغاوت کچلنے کی کوشش کے دوران اجتماعی قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

دارفر میں مقامی قبائل نے سنہ 2003ء میں خرطوم حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا تھا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے عمر البشیر کی وفادار فوج اور دیگر حامی ملیشیاؤں نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور فوجی آپریشن کیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کہ لاکھوں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سنہ 2010ء میں دارفر میں تھوڑے عرصے کے لیے امن قائم ہوا مگر حالیہ تین برسوں کے دوران دوبارہ اس علاقے میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے سنہ 2008ء، 2009ء اور 2010ء میں معزول صدر عمر البشیر، ان کے وزیر دفاع عبدالرحیم محمد حسین، صدر کے معاون خصوصی اور وزیر داخلہ احمد محمد ہارون اور ایک عسکری گروپ کے سربراہ علی کوشیب کو دارفر میں‌جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات میں اشتہاری قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔