.

ایران میں کرونا وائرس سے 6 ہلاکتیں، دو شہروں میں تعلیمی ادارے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد چھے ہوگئی ہے اور دو وسطی شہروں میں حکام نے اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر تمام اسکول ، جامعات اور تعلیمی مراکز کو ایک ہفتے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران کے مرکزی صوبہ کے گورنر علی آقازادہ نے سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کو بتایا ہے کہ وسطی شہر آراک میں وفات پانے والے ایک شخص کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور وہ عارضہ قلب میں بھی مبتلا تھا۔

قبل ازیں ایرانی حکام نے ہفتے کے روز کرونا وائرس سے ایک اور ہلاکت اور دس نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے۔اس کے بعد ایران میں اس مہلک وائرس کا شکار ہوکر مرنے والوں کی تعداد چھے ہوگئی ہے اور اس سے اب تک اٹھائیس افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق قُم میں اتوار سے دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔اس شہر میں کرونا وائرس سے دو افراد کی موت ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ آراک شہر میں ایک ہفتے کے لیے تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

سرکاری ٹی وی نے قبل ازیں یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایک اعلیٰ عہدہ دارکے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ دارالحکومت تہران کے تیرھویں ضلع کے میئر مرتضیٰ رمضان زادہ کو جمعہ کو کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اسپتال داخل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ بدھ کو کرونا وائرس کے مریضوں کی پہلی مرتبہ اطلاع سامنے آئی تھی اور تہران کے جنوب میں واقع اہل تشیع کے لیے متبرک شہر قُم میں حکام نے دو ضعیف العمر افراد کی کرونا وائرس سے موت کی تصدیق کی تھی۔مشرقِ اوسط میں واقع کسی ملک میں کرونا وائرس سے یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔

چین میں یہ مہلک وائرس دسمبر میں نمودار ہوا تھا اور اس نے چند ہی ہفتوں میں ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔چین میں اب تک اس وائرس سے 2345 افراد مارے جاچکے ہیں۔سب سے متاثرہ شہر ووہان کے زمینی اور فضائی رابطے منقطع ہیں۔اس کے مکین محصور ہو کررہ گئے ہیں اور اس شہر کے علاوہ چین کے بہت سے دوسرے شہروں میں کئی ایک کاروباروں کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔