.

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے سینیر کمانڈر’’کیمیاوی زخموں‘‘ سے چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے سینیر کمانڈرحسین اسد اللّٰہی ’’کیمیاوی زخموں‘‘سے چل بسے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق وہ 1980ء کے عشرے میں عراق کے خلاف لڑی گئی جنگ میں کیمیاوی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور اسی کے سبب ان کی موت واقع ہوئی ہے۔

وہ سپاہِ پاسداران انقلاب میں سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے سینیر افسر تھے اور اس کے ستائیسویں ڈویژن محمد رسول اللہ کے کئی سال تک کمانڈر رہے تھے۔

وہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑنے والی ایرانی فورسز کی بھی کمان کرتے رہےتھے۔

ایران کی بعض خبررساں ایجنسی نے بھی عراق سے جنگ میں لگنے والے کیمیاوی زخموں کو ان کی موت کا سبب قراردیا ہے جبکہ جلاوطن ایرانیوں کے بعض میڈیا ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ کرونا کے مہلک وائرس کا شکار ہوگئے تھے اور اسی سے ان کی موت واقع ہوئی ہے۔اب تک اس مہلک وائرس سے ایران کے سولہ اعلیٰ عہدے دار مارے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے قبل ازیں عراق سے جنگ میں کیمیاوی ہتھیاروں سے زخمی ایک اور عہدے دار کی موت کی بھی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ اس کے علاوہ ایک اور عہدہ دار اسپتال میں زیر علاج ہے۔

سرکاری میڈیا نے گذشتہ ماہ یہ اطلاع دی تھی کہ ایرانی پارلیمان کے رکن محمد علی رمضانی کیمیائی زخموں سے چل بسے ہیں لیکن نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی موت کرونا وائرس سے ہوئی ہے۔

ایران کی ایک اور نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایلنا نے اسی ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ وزیر صنعت رضا رحمانی کو ’’کیمیائی زخموں‘‘ کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔اس نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایران میں ہفتے کے روز تک اس مہلک وائرس سے 1556 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور 20610 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔