.

سعودی بنکوں نے محکمہ صحت کے ملازمین سے واجب الادا قرضوں کی وصولی مؤخر کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مرکزی بنک نے کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد محکمہ صحت کے ملازمین کے ذمے واجب الادا قرضوں کی اقساط کی وصولی مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی بنک (سعودی عرب مانیٹری اتھارٹی ،ساما) نے ٹویٹر پر اتوار کو اعلان کیا ہے کہ شعبہ صحت سے وابستہ ملازمین نے جن بنکوں سے قرضے لے رکھے ہیں، وہ اب ان کی اقساط تین ماہ کے بعد واپس کریں گے۔

ساما کے گورنر احمد الخلیفی نے 15 مارچ کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مملکت میں کریڈٹ پر اثرات مرتب ہوتے ہیں تو پھر مرکزی بنک صورت حال کی بہتری کے لیے مداخلت کرنے کو تیار ہے۔

گذشتہ سوموار کو خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کے مرکزی بنکوں کے گورنروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ خطے میں مالیاتی سیکٹر مضبوط ہے اور وہ مہلک کرونا وائرس کے معیشتوں پر اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

جی سی سی کے گورنروں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خلیج عرب ممالک کی معیشتوں پر کرونا وائرس کے اثرات کا جائزہ لیا تھا اور ان سے نمٹنےکے لیے مختلف اقدامات کے نفاذ پر غور کیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’’ گورنروں نے اس بات پر زوردیا تھا کہ مالیاتی ادارے اور مرکزی بنک صورت حال کی نگرانی جاری رکھیں گے،وہ کرونا وائرس کے معیشتوں پر مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے اور مضبوط ، پائیدار ، متوازن اور جامع شرح نمو کے حصول کے لیے مالیاتی پالیسی کے تمام ذرائع کو بروئے کار لائیں گے۔‘‘