.

تیل سے متعلق روسی صدر سے منسوب بیان بے بنیاد ہے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق روسی صدر ولادی میر پوتین سے منسوب بیان "نے بنیاد" ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شہزادہ فیصل نے یہ بات جمعے کی شب ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ روسی صدر سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سبب سعودی عرب کا OPEC plus کے سمجھوتے سے نکل جانا ہے۔ مزید یہ کہ مملکت چٹان کا تیل پیدا کرنے والوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ بیان میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ جملہ طور پر من گھڑت ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ شہزادہ فیصل کے مطابق "سمجھوتے سے مملکت کے انخلا کی بات درست نہیں ہے بلکہ معاہدے سے نکل جانے والا ملک روس ہے۔ سعودی عرب اور دیگر 22 مالک روس کو مزید کمی اور معاہدے میں توسیع پر قائل کرنے کی کوششیں کر رہے تھے تاہم روس اس پر آمادہ نہیں ہوا"۔

سعودی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ چٹان کے پٹرول کی پیداوار کے حوالے سے مملکت کا موقف معروف ہے۔ یہ توانائی کے ذرائع میں اہمیت رکھتا ہے۔ مملکت مزید کمی اور عالمی منڈی میں توازن کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس میں چٹان کا پٹرول پیدا کرنے والوں کا بھی مفاد ہے۔

ایس پی اے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے حقائق کو بدلنے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ روس اوپیک + کے ارکان اور دیگر ممالک کے گروپ کے آئندہ ہنگامی اجلاس میں درست موقف اختیار کرے گا۔ اس اجلاس کی دعوت سعودی عرب نے دی تھی۔ اجلاس کا مقصد ایک ایسے منصفانہ سمجھوتے تک پہنچنا ہے جس سے پٹرولیم مارکیٹ میں مطلوب توازن پھر سے حاصل ہو جائے۔ علاوہ ازیں توانائی کی مارکیٹس دوبارہ سے خطرے سے دوچار نہ ہوں۔

دوسری جانب جمعے کی شب سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزيز بن سلمان بن عبدالعزيز نے اپنے روسی ہم منصب کے بیان میں کہی گئی بات کی تردید کی ہے۔ روسی وزیر توانائی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اوپیک + سمجھوتے کی توسیع سے انکار اس سمجھوتے سے دست برداری نے ،،، عالمی پٹرولیم مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔