.

اوپیک پلس کا میکسیکو سے سمجھوتا،تیل کی یومیہ پیداوارمیں 97 لاکھ بیرل کمی پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک نے یکم مئی سے تیل کی یومیہ پیداوار میں 97 لاکھ بیرل کمی پر اتفاق کیا ہے۔ان کے درمیان میکسیکو سے سمجھوتے کے بعد اس ضمن میں ایک ڈیل طے پاگئی ہے۔

اوپیک پلس ممالک کے وزراء کا اتوار کو غیر معمولی ورچوئل اجلاس ہوا ہے اور اس میں انھوں نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کے لیے پیداوار میں کمی سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا ہے۔

اجلاس کے بعد کویت کے وزیر تیل خالد الفاضل نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’’ اللہ کی مہربانی سے ہم جمعہ کی صبح سے جاری بات چیت اور کوششوں کے بعد پیداوار میں کٹوتی کے تاریخی سمجھوتے کا اعلان کررہے ہیں۔اس کے تحت یکم مئی سے اوپیک پلس ممالک تیل کی یومیہ پیداوار میں قریباً ایک کروڑ بیرل کی کمی کردیں گے۔‘‘

میکسیکو کے وزیر تیل روشیو نحل نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’میکسکو اوپیک ممالک کی آج کے غیر معمولی اجلاس میں حمایت کو سراہتا ہے۔اجلاس میں شریک 23 ممالک میں اتفاق رائے سے مئی سے تیل کی پیدوار میں 97 لاکھ بیرل یومیہ کمی کے لیے سمجھوتا طے پایا ہے۔‘‘

اوپیک پلس کی مجوزہ ڈیل میں میکسیکو سے یومیہ پیداوار میں چار لاکھ بیرل کمی کا تقاضا کیا گیا تھا لیکن وہ صرف ایک لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی پر آمادہ ہوا تھا اور اسی نے اوپیک پلس کو اسی کی پیش کش کی تھی۔

ایران کی تیل کی وزارت نے بھی ٹویٹر پر یہ اطلاع دی ہے کہ ’’اوپیک پلس ممالک کے وزرائے تیل اور توانائی نے ویبی نار کے ذریعے اپنے دسویں غیرمعمولی اجلاس میں میکسیکو کی جانب سے اپنی پیداوار میں مئی اور جون 2020ء میں ایک لاکھ بیرل یومیہ کی کٹوتی کی پیش کش کی توثیق کردی ہے۔''

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے تیل کی مانگ میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتیں گر چکی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی آمدن سکڑ کررہ گئی ہے۔اس سے امریکا کی تیل کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس کی تیل کی پیداواری لاگت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

میکسیکو کے صدر آندرس مینول لوپیز اوبراڈور نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے تیل کی پیداوار میں غیر معمولی کمی صورت میں بعض مراعات کی پیش کش کی ہے اور انھوں نے میکسیکو سے تیل خرید کرنے کی بھی پیش کش کی تھی۔

اس سے پہلے امریکی صدر سعودی عرب کو یہ دھمکی دے چکے تھے کہ اگر اس نے تیل کی رسد کے مسئلے کو حل نہیں کیا تو وہ تیل پر ٹیرف عاید کردیں گے۔صدر ٹرمپ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام کے لیے پیداوار میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تک یومیہ کٹوتی پر زور دیا تھا۔

تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں عدم استحکام سے امریکا کی تیل فرمیں سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان کی پیداواری لاگت سب سے زیادہ ہے۔امریکی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 43 سے 55 ڈالر کے درمیان برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ان کے مقابلے میں سعودی آرامکو کی پیداواری لاگت کہیں کم ہے اور اس کی فی بیرل پیداواری لاگت صرف تین ڈالر ہے۔اس لیے اس کے تیل کی فروخت پر منافع کی شرح زیادہ ہے۔