.

یو اے ای: کرونا وائرس کے 483 نئے کیسوں کی تصدیق،رمضان مختلف ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 483 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے اور اب ملک میں اس مہلک وَبا کا شکار افراد کی تعداد 8238 ہوگئی ہے۔

امارات کی وزارت صحت نے بدھ کے روز کرونا وائرس سے چھے نئی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد وفات پانے والوں کی تعداد 52 ہوگئی ہے۔امارات میں کرونا وائرس کا شکار مزید 103 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔اب تک ملک میں 1546 افراد تن درست ہوچکے ہیں۔

یو اے ای میں گذشتہ چند روز سے کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کا عمل تیز کردیا گیا ہے اور روزانہ ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق امارات کی حکومت ملک میں موجود تمام شہریوں اور مکینوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کا ارادہ رکھتی ہے اور اس وقت 24 گھنٹے میں 30 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔امارات کے وزیرمملکت برائے امورخارجہ انورقرقاش نے کہا ہے کہ اب تک دس لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

اماراتی حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے مراکز قائم کیے ہیں۔ابو ظبی میں 28 مارچ کو ڈرائیو تھرو ٹیسٹ سنٹر قائم کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے فجیرہ ، العین اور دبئی میں ایسے کئی ایک ٹیسٹ مراکز قائم کیے جاچکے ہیں۔

ابو ظبی میں بی جی آئی اور ٹیکنالوجی کمپنی گروپ 42 کے اشتراک سے ایک بڑی ٹیسٹنگ لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں مختلف معذوریوں کا شکار افراد کے گھروں ہی میں ٹیسٹ کے لیے بھی سروس شروع کی گئی ہے۔حال ہی میں اس نے ابوظبی کے صنعتی علاقے مصارف میں ورکروں کے لیے دو ٹیسٹ مراکز قائم کیے ہیں۔

رمضان مختلف ہوگا

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اس مرتبہ دنیا بھر میں رمضان المبارک مختلف انداز میں گزرے گا۔ یو اے ای کی وزارت صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسنی کا کہنا ہے کہ ہر کسی کی صحت ہماری ترجیح ہے۔اس مشکل مرحلے سے گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ رمضان کی روایات کو تبدیل کیا جائے۔

انھوں نے کہا:’’یہ درست ہے کہ افطار کی میزپر خاندان کا اجتماع اور ہمسایوں کو کھانا بھیجنا برسوں سے ہماری روایت رہی ہے لیکن یہ سال ذرا مختلف ہے،اس لیے ہمیں ان روایات کو ملتوی کردینا چاہیے۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ ’’اس مرتبہ رمضان بعض روایات کے بغیر مختلف ہوگا لیکن لوگوں کو اپنی بھلائی کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔وہ صحت مندانہ عادات کو اپنائیں،خوش خوراکی کو شعار بنائیں اور اپنے گھروں ہی میں ورزش کریں۔‘‘

ڈاکٹر فریدہ الحسنی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ یو اے ای میں کرونا وائرس کے تن درست ہونے والے مریضوں نے صحت مندانہ عادات اپنائیں جس سے ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوا ہے۔

انھوں نے لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سماجی فاصلے پر عمل جاری رکھیں اور کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔