.

نئے شواہد،ایران تارکِ وطن مزدوروں کی موت کا ذمے دار ہے: افغان وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکام کی تحقیقات کے نئے شواہد کے مطابق ایران متعدد تارکینِ وطن مزدوروں کی موت کا ذمے دار ہے۔ ایران کے سرحدی محافظوں نے گذشتہ ماہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ان تارکین وطن مزدوروں کو زبردستی دریا میں ڈبو کر ہلاک کردیا تھا۔

افغان وزارت خارجہ نے اتوار کو ان نئی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور ایران کی جانب سے مئی میں تارکین وطن افغان مزدوروں کی ہلاکتوں کی ذمے داری قبول نہ کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں متعدد ہم وطن مہاجروں کے ڈوبنے کے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک 10 رکنی ٹیم مقرر کی تھی۔

واضح رہے کہ 11 مئی کوصوبہ ہرات اور ایران کے درمیان واقع دریائے ہری رود سے اٹھارہ افغان تارکین وطن کی لاشیں نکالی گئی تھیں اور ان میں سے بعض پر تشدد کے نشانات تھے۔

افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تارکین وطن دریائے ہری رود میں ڈوبے تھے۔وہ مغربی صوبہ ہرات سے پڑوسی ملک ایران میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے مگر ایران کے سرحدی محافظوں نے انھیں زبردستی دریا میں دھکیل دیا تھا۔

صوبہ ہرات کے ضلع گلران کے گورنر عبدالغنی نوری نے بتایا تھا کہ ان لاشوں پر مار پیٹ اور تشدد کے نشانات بھی تھے۔ان کے بہ قول 55 افغان تارکین وطن کو زبردستی دریا میں دھکیل دیا گیا تھا۔

ضلعی گورنر نے بچ جانے والے افغانوں کے بیانات کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران کے سرحدی محافظوں نے پہلے ان مہاجروں کو تاروں سے مارا پیٹا تھا۔پھر ان پر بندوقیں تان لی تھیں اور انھیں جانیں بچانے کے لیے دریا میں چھلانگیں لگانے پر مجبور کردیا تھا۔

افغانستان کے انسانی حقوق کمیشن نے الگ سے یہ بتایا تھا کہ ایران کے سرحدی محافظوں نے پہلے ان تارکین وطن کو دریائے ہری رود کو عبور کرنے کی اجازت دے دی تھی۔اس دوران میں ان میں سے متعدد ڈوب مرے تھے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے افغان حکام کے ان دعووں کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان مزدوروں کے ڈوبنے کا واقعہ افغانستان کی حدود میں پیش آیا تھا۔