.

میرے والد زندہ ہوتے تو صدر ٹرمپ کی حمایت کرتے: محمد علی جونیئر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق مشہور و معروف باکسنگ چیمپین محمد علی کلے کے اکلوتے بیٹے محمد علی جونیئر کا کہنا ہے اگر ان کے والد اس وقت زندہ ہوتے تو وہ Black Lives Matter تحریک کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ... اسی طرح وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا بھی اعلان کرتے۔

جونیئر نے یہ بات اپنے والد کی چوتھی برسی کے موقع پر امریکی اخبار New York Post کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔ محمد علی کلے طویل عرصے تک پارکنسن کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد 3 جون 2016 کو انتقال کر گئے تھے۔

جونیئر کی عمر 47 سال ہے اور وہ دو بچیوں کے باپ ہیں۔ انہوں نے Black Lives Matter تحریک کو نسل پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پرچم تلے احتجاج کرنے والے مظاہرین شیطان ہیں۔ جونیئر کے مطابق پولیس اہل کار کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا احتجاج جس طرح لوٹ مار اور پرتشدد کارروائیوں میں تبدیل ہوا ،، ان کے والد اگر یہ دیکھ لیتے تو انہیں شدید گھن آتی۔ جونیئر نے مزید کہا کہ اسی لیے "میرے والد زندہ ہوتے تو یہ ہی کہتے کہ یہ لوگ صرف شیطان ہیں"۔

اخبار کے ساتھ ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے انٹرویو میں محمد علی جونیئر نے واضح کیا کہ صرف سیاہ فام کی زندگی اہم نہیں بلکہ سفید فام کی زندگی بھی اہمیت رکھتی ہے اور اسی طرح چینیوں کی زندگی بھی .. ہر چیز اہم ہے۔ جونیئر کا کہنا تھا کہ "جس پولیس افسر نے جارج فلائیڈ کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا اور اسے موت تک پہنچایا ،،، اس نے غلطی کی ،،، تاہم لوگ بہت سے مناظر نہیں جانتے مثلا وہ جس میں فلائیڈ کو گرفتاری کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ،، تاہم یہ ضرور ہے کہ افسر نے غلط تدبیر اختیار کی"۔

محمد علی جونیئر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ Antifa موومنٹ نے احتجاج کے دوران تشدد کا راستہ اختیار کیا لہذا اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہیے۔