.

"جی 20" مذہبی اقدار فوم کا اجلاس، عالمی امن اور بقائے باہمی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جی 20 مذہبی اقدار فورم کی تیاریوں کے سلسلے میں ہفتے کے روز ہونے والے ورچوئل اجلاس میں عالمی امن اور بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں امن کے حصول اور عالمی ماحولیات پر بھی بحث کی گئی۔ ہفتے کی شام سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مکالمہ مرکز کے زیراہتمام جی ٹونٹی اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں تیاریوں کے لیے مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس کے انعقاد میں شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز بین الاقوامی مکالمہ مرکز، جی 20 کے سوسائٹی آف مذہبی اقدار فورم اور اقوام متحدہ کے فورم برائے اتحاد تہذیب اور قومی کمیٹی کے ارکان نے حصہ لیا۔

مذہبی اقدار فورم کا اجلاس اکتوبر2020 کے اکتوبر میں ریاض میں منعقدہ ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کی تیاریوں کے ضمن میں کیا گیا۔اجلاس میں عالمی شخصیات ، عرب خطے سے تعلق رکھنے والے ماہرین، ، رہ نماؤں ، مذہبی شخصیات، اور انسان دوست اداروں اور پالیسی سازوں کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال وبا سے نمٹنے کے لیے جی 20 کے کردار اور ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان تعلقات کے فروغ پر بحث کی گئی۔

اجلاس میں تین ورکنگ گروپس کی سفارشات شامل کی گئیں۔ سب سے پہلے اس مسئلے پر بحث کی گئی کہ عرب خطے میں معاشرتی یکجہتی اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو کیسے فروغ دینا اور اس کے مطالعہ پر کیسے توجہ مرکوز کرنا ہے۔ دوسرا مرکز حکمرانی اور مذہب کے شعبوں میں دینی اداروں کے کردار پر مرکوز رہا جبکہ تیسرے ورکنگ گروپ ن عالمی درجہ حرارت کی روشنی میں ماحولیات کے بہتر تحفظ میں دینی اقدار کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔

عالمی مکالمہ مرکز کے سیکرٹری جنرل فیصل ابن معمر نے کہا کہ مذہبی اقدار فورم محض عرب علاقائی مشاورتی فورم اور افراد کے درمیان پل کا کام نہیں دے رہا بلکہ اس کا مقصد عرب ممالک اور عالمی سطح پر مختلف نظریات اور سوچ کے حامل طبقات کے درمیان ہم آہنگی کے پہلو تلاش کرکے ان کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس سے خطاب میں عالمی رہ نمائوں نے مذہب اور انسانی اقدار کو عالمی امن اور بقائے باہمی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے تشدد کی نفی کی۔ انہوں نے زمین کے تحفظ ، جنگلات، آبی اور جنگلی حیات کی بقا کے لیے بھی کام کرنے پر زور دیا۔