خامنہ ای کے جنازے میں نقاب پوش شخص کا تنازع ختم، شناخت ہوگئی
وہ علی خامنہ ای کا سب سے بڑا پوتا جواد خامنہ ای ہے، جھلسنے کی وجہ سے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا: میڈیا رپورٹس
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب کے دوران اگلی صفوں میں ایک سیاہ نقاب اور ٹوپی پہنے ہوئے شخص کے نمودار ہونے نے قیاس آرائیوں کا ایک وسیع طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ مرحوم سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔
تاہم ایرانی میڈیا رپورٹس نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جنازے میں نظر آنے والا شخص علی خامنہ ای کا سب سے بڑا پوتا اور مصطفیٰ خامنہ ای کا بیٹا محمد جواد خامنہ ای ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے نواسوں میں سب سے بڑا ہے۔
رپورٹس کے مطابق محمد جواد نے 28 فروری کے حملے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے اندر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں آنے والے زخموں اور جھلسنے کی وجہ سے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ اس حملے میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔
عقب تداول صورة لشخص غطى وجهه خلال مراسم دفن علي خامنئي، في مدينة "مشهد"، أفاد موقع "ركنا" الإخباري بأن هذا الشخص هو محمد جواد خامنئي، نجل مصطفى خامنئي، الابن الأكبر للمرشد الإيراني الراحل.
— إيران إنترناشيونال-عربي (@IranIntl_Ar) July 11, 2026
ووفقًا لما أورده "ركنا"، فقد كان محمد جواد حاضرًا في مكتب علي خامنئي أثناء تعرضه للقصف،… pic.twitter.com/ZT0dvEgjtV
محمد جواد گزشتہ 28 فروری کو ایران کو نشانہ بنانے والی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران آنے والے شدید زخموں اور جھلسنے کی وجہ سے اپنا چہرہ ڈھانپنے پر مجبور ہوئے۔ یہ وہی حملے تھے جن کے نتیجے میں علی خامنہ ای بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
علی خامنہ ای کے تین بیٹے مصطفیٰ، مسعود اور میثم جنازے کی تقریب کے دوران اپنے والد کے تابوت کے پاس نظر آئے تھے۔ مجتبی جو سپریم لیڈر کے عہدے پر ان کے جانشین بنے ہیں عوامی منظرنامے سے غائب رہے تھے۔
یاد رہے مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے حملے کے بعد سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسی حملے کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے اور ان کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا۔