.

امریکا نے عراقی محقق اور تجزیہ کار ہشام الہاشمی کے قتل کی مذمت کردی

امریکی وزیرخارجہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران پر عاید اسلحہ کی پابندی میں توسیع کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراقی محقق اور تجزیہ کار ہشام الہاشمی کے اندوہ ناک قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مقتول ہشام عراق کی سیاست ، داعش اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے کردار کے بارے میں لکھتے رہتے تھے اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بھی بہ طور تجزیہ کار نمودار ہوتے رہے تھے۔ انھیں گذشتہ سوموار کو نامعلوم مسلح افراد نے بغداد میں ان کے گھر کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو ان کے قتل کی مذمت میں بیان جاری کیا ہے۔ قبل ازیں بغداد میں امریکی سفارت خانے بھی ان کے قتل کی مذمت کی تھی اور ان کے خاندان سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

مائیک پومپیو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیا ہے کہ ایران کے خلاف عاید اسلحے کی پابندی میں توسیع کرے۔انھوں نے کہا کہ امریکا اور اس کی اتحادی فورسز نے گذشتہ ماہ ایرانی اسلحہ سے لدی ہوئی ایک کشتی پکڑی تھی۔یہ اسلحہ یمن میں حوثی باغیوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔

مائیک پومپیو نے محکمہ خارجہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ سلامتی کونسل کو خطے میں کسی مزید تنازع سے بچنے کے لیے ایران پر عاید اسلحے کی پابندی کی مدت میں ضرور توسیع کرنی چاہیے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ کوئی بھی سنجیدہ فرد بہ مشکل ہی اس بات میں یقین کرسکتا ہے کہ ایران ملنے والے کسی بھی ہتھیار کو پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔‘‘