.

کویت سے تین لاکھ 60 ہزار تارکِ وطن مزدوروں کی بے دخلی کے منصوبے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت سے تین لاکھ 60 ہزار تارکِ وطن مزدوروں کو ان کے آبائی ممالک میں بھیجنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کویتی حکومت اور قومی اسمبلی دونوں متفقہ طور پرطویل المیعاد اور قلیل المیعاد اقدامات پر غور کررہے ہیں۔

کویت ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت ملک سے ایک لاکھ 20 ہزار غیر قانونی غیرملکی ورکروں اور 60 سال سے زاید عمر کے تارکینِ وطن کو بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ان میں ملازمین ،دوسروں کے زیرکفالت افراد اور دائمی امراض کا شکار مریض شامل ہیں۔

اخبار نے قومی اسمبلی کی افرادی قوت وسائل کی ترقی کی کمیٹی کے رکن اسامہ الشاہین کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت 90 ہزار ناخواندہ مزدوروں کو بھی ملک سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔

اسمبلی کے ایک اور رکن خلیل الصالح کے مطابق سماجی بہبود کی وزیر مریم العقیل سے کہا گیا ہے کہ ’’وہ غیرملکی تارکِ وطن مزدوروں کو واپس بھیجنے کے بارے میں منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایک نظام الاوقات پیش کریں۔اس میں یہ واضح کیا گیا ہوکہ ہر سال کتنے مزدوروں کو واپس بھیجا جائے گا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اس منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق اسی ہفتے کے آخر میں اسمبلی میں ایک بل بھی پیش کرنا ہوگا۔

کویت ٹائمز نے لکھا ہے کہ اس کے بعد کمیٹی آیندہ ہفتے تک اپنی ایک رپورٹ تیار کرے گی اور پھر اس کو رائے شماری کے لیے اسمبلی میں پیش کرے گی۔

حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق کویت کی آبادی میں 2005ء سے 2019ء کے درمیان 55 فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ 13 لاکھ 30 ہزار نفوس بنتے ہیں۔اس عرصے کے دوران میں تارکین وطن کی آبادی میں 130 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد30 لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ کویت میں تارکین وطن کل ملکی آبادی کا قریباً 70 فی صد ہیں۔ کویت ٹائمز نے قبل ازیں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس وقت ملک میں تیرہ لاکھ کے لگ بھگ تارکینِ وطن ایسے ہیں جو یا تو بالکل اَن پڑھ ہیں یا بہ مشکل چند الفاظ لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔اب وہ ترجیح نہیں رہیں گے۔

کویت کی اسمبلی کے اسپیکر مرزوق الغانم کے مطابق نئے مجوزہ مسودۂ قانون میں مختلف کاروباروں پر یہ قدغن لگائی جارہی ہے کہ وہ ہر سال کتنی تعداد میں تارکین وطن کو بھرتی کرسکتے ہیں۔ وہ اس متعیّنہ تعداد سے زیادہ غیرملکیوں کو بھرتی نہیں کرسکیں گے۔اس کے علاوہ ان تارکینِ وطن کی پیشہ ورانہ مہارتوں پر مبنی قواعد وضوابط بھی وضع کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں