.

غیرملکی جنگجووں کا دعویٰ بے بنیاد، آرمینیا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: آذربائیجان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آذربائیجان نے پڑوسی ملک آرمینیا کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں باور کرایا ہے کہ باکو جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

آذربائیجان کے صدر 'الھام علییف' نے 'العربیہ' چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر آرمینیا متنازع علاقے سے نکلنے کا اعلان کرے تو ہم جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے فوج کے ساتھ ایک لاکھ غیرملکی جنگجووں کی موجودگی کا الزام مسترد کر دیا۔

ایک سوال کے جواب میں علییف نے کہا کہ ہم ایک جارحانہ حملے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارا ہدف اپنی اراضی واپس لینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک 'ناگورنو کاراباخ' کو خود مختار ملک تسلیم نہیں کرے گا۔

علییف کا مزید کہنا تھا کہ آرمینیا نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پابندی نہیں کی۔ ہم نے آرمینیا کے سامنے جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ آرمینیا کی فوج متنازع علاقے سے نکل جائے۔ اس وقت تنازع کا واحد حل سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعمل درآمد ہے۔

صدر علییف نے مزید کہا کہ آرمینیا ہمارے علاقے سے نکلنے کا ٹائم فریم دے اور آرمینیا کے وزیر اعظم ہماری توہین پر معافی مانگیں۔
آذر بائیجان کے صدر نے کہا کہ آرمینی فوج کی طرف سے کی گئی بمباری کے نتیجے میں ہمارے شہروں میں 5 ہزار مکانات اور املاک تباہ ہوئی ہیں۔ عالمی برادری آرمینیا کو جارحیت سے باز رکھنے میں ناکام رہی تو ہم اپنا دفاع خود کریں گے۔

صدر علییف کا کہنا تھا کہ آرمینیا کے ساتھ جاری بحران کا بہتر حل مذاکرات ہے مگر آرمینیا موجودہ جیو پولیٹیکل حالات کے مطابق آگے بڑھنےکے لیے تیار نہیں۔رکی کی جانب سے آذر بائیجان کی مدد کے لیے جنگجو بھیجنے سے متعلق سوال کے جواب میں صدر علییف نے کہا کہ ہم آرمینیا سے اس دعوے کا ثبوت مانگتے ہیں۔ آرمینیا ثابت کرے کہ ترکی نے شامی جنگجو ہماری مدد کو بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی جنگجوئوں کی موجودگی کا الزام ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے غیرملکی جنگجوئوں کا الزام عاید کرنے پر فرانس سے بھی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس غیرملکی جنگجو نہیں بلکہ ہماری اپنی ایک لاکھ فوج اس وقت محاذ پرہے۔