.

خواتین سے زیادتی کیسز، مذہبی اسکالر طارق رمضان دوبارہ کٹہرے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملکوں فرانس اور سوئٹرزلینڈ میں خواتین کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے کیسز میں ملوث مذہبی اسکالر اور اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے پوتے پروفیسر طارق رمضان کو جمعرات کے روز پیرس کی ایک عدالت میں دوسری بار پیش کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق سوئس مدعیہ کے وکیل کا کہنا ہےکہ طارق رمضان پر سنہ 2008ء میں سوئٹرزلینڈ اور اس کے بعد فرانس میں چار خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزم عاید کیا گیا ہے۔

ایڈووکیٹ رابٹر اسیل کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ ؛بریگیڈ' کے ساتھ جنسی زیادتی کے ملزم طارق رمضان کا عدالت میں پیش ہونا اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیشی ایک لمبا اور مشکل دن تھا مگر میری موکلہ پرسکون اور پراعتماد تھیں۔ اس نے جو کچھ بھی کہا سچ کہا۔

دوسری جانب ملزم پروفیسر طارق رمضان کے وکیل باسکال گاربارینی نے کہا کہ ان کا موکل پرسکون تھا۔ اس نے عدالت میں پرسکون انداز میں بات کی۔

جنیوا کے پراسیکیوٹر جنرل نے فرانسیسی تفتییشی جج کی موجودگی میں طارق رمضان سے تین گھنٹے تک خواتین سے جنسی زیادتی کیسز میں پوچھ گچھ کی۔

خیال رہے کہ فرانس کی ایک عدالت کے حکم پر طارق رمضان کو نظر بند رکھنے کے ساتھ انہیں کیسز کی تحقیقات مکمل ہونے تک بیرون ملک سفر سے روک دیا ہے۔

سوئس خاتون نے 2018 کے بعد طارق رمضان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے جنیوا میں 2008 میں انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ یرغمال بنا کر رکھا تھا۔

طارق رمضان کے وکیل پاسکل گاربارینی نے کہا کہ سماعت کے دوران ان کے موکل پر کوئی نیا الزام عاید نہیں کیا گیا۔ سماعت معمول کے مطابق جاری رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مؤکل کا موقف درست تھا اور اس نے بہت مفصل بیان دیا میرا خیال ہےاس بیان کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔