.

متحدہ عرب امارات کے شہری اب بغیرویزا 90 دن کے لیے اسرائیل جاسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے شہری اب بغیر ویزا 90 روز کے لیے اسرائیل جاسکتے ہیں۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے جمعرات کے روز وزارت خارجہ کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ویزے سے استثنا کا فیصلہ منگل کو دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس فیصلہ پر یو اے ای کے معاون وزیر برائے ثقافت اور پبلک ڈپلومیسی عمر سیف اور اسرائیل کی وزارت داخلہ کے تحت آبادی اور امیگریشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے دست خط کیے ہیں۔دونوں ملکوں کے شہریوں کو ویزوں سے استثنا دینے کا فیصلہ دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی خواہش کا عکاس ہے اوراس سے خطے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات سے گذشتہ سوموارکو پہلا مسافر طیارہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے پر اترا تھا۔یواے ای کی فضائی کمپنی اتحادائیرویز کی اس پرواز میں صرف عملہ کے ارکان سوار تھے اور یہ تل ابیب سے اسرائیلی سیاحوں کو یو اے ای سیروسیاحت کے لیے لایا تھا۔

یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہفتے میں 28 پروازیں چلانے کے لیے منگل کے روز ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ دونوں ملکوں نے گذشتہ جمعرات کو دُہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بھی ابتدائی سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور فروغ ہے۔

یو اے ای نے 13 اگست کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا ،اس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔اس نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے یو اے ای کے ساتھ اس امن معاہدے کی توثیق کی تھی جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارتی کونسل نے بھی تین روز پہلے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے طے شدہ معاہدۂ ابراہیم کی منظوری دے دی تھی۔