.

’’حملوں اور اغوا‘‘ کی دھمکیوں کے بعد انقرہ میں امریکی سفارتی مشنز بند

سیکورٹی کی غیر اطمینان بخش صورت پر امریکی سفارت خانوں میں ویزہ سروس بھی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکی سفارت خانہ نے کہا ہے کہ وہ دہشت گرد حملوں اور استنبول میں امریکی شہریوں کے اغوا کی مصدقہ رپورٹس کے باعث ترکی میں موجود اپنے تمام مشنز سے ویزہ سروس کو عارضی طور پر معطل کر رہا ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کو امریکی سفارت خانہ نے کہا ہے کہ ’ترکی میں امریکی مشن کو مصدقہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ استنبول سمیت ترکی میں دیگر مقامات پر بشمول امریکی قونصل جنرل، امریکی اور دیگر ممالک کے شہریوں کو اغوا کیا جا سکتا ہے اور ان پر دہشت گرد حملے ہو سکتے ہیں۔‘

امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بیان ترکی میں سکیورٹی کی صورتحال کو دیکھ کر جاری کیا گیا ہے۔

2017 میں نئے سال کے موقع پر ایک اکیلے حملہ آور نے استنبول میں موجود ایک نائٹ کلب پر حملہ کر کے 39 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

یہ حملہ شدت پسندوں کی طرف سے کیے جانے والے کئی حملوں میں سے ایک تھا جن میں استنبول سمیت ترکی کے کئی دیگر مقامات پر درجنوں افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ترک حکام نے مشتبہ داعش اور کرد شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا تھا۔