کابل یونیورسٹی میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ ، طلبہ سمیت 19 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغان دارالحکومت میں واقع جامعہ کابل میں مسلح حملہ آوروں نے سوموار کے روز فائرنگ کرکے انیس افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ مہلوکین میں طلبہ اور طالبات بھی شامل ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔البتہ بعض آزاد ذرائع نے حملے میں کم سے کم 40 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چند گھنٹے کے بعد جوابی کارروائی میں تین حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ہے۔

ایک عینی شاہد فتح اللہ مرادی نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے جامعہ کے کیمپس میں طلبہ کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔وہ جانیں بچانے کے لیے بھاگنے والے طلبہ پر بھی فائرنگ کرتے رہے تھے۔

اس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آورنظر آنے والے ہرطالب علم پر گولیاں چلا رہے تھے لیکن مرادی اپنے بعض دوستوں کے ساتھ جامعہ کے ایک گیٹ سے جانیں بچاکر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

افغان طالبان نے اس حملے میں ملوّث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے یہ حملہ نہیں کیا ہے۔فوری طور پر کسی اور گروپ نے بھی اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔

مسلح افراد کے حملے کے وقت یونیورسٹی میں کتاب میلہ جاری تھا اور آج اس کو دیکھنے کے لیے ایرانی سفیر بھی آنے والے تھے۔بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جامعہ کابل میں فائرنگ کے بعد علاقے میں ایک دھماکے کی آواز بھی سنی گئی ہے۔

افغان حکام نے یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے کتاب میلے کے بارے میں کوئی بیان جاری کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے اتوار کو یہ اطلاع دی تھی کہ کابل میں متعیّن ایرانی سفیر بہادر امینیان اور ثقافتی اتاشی مجتبیٰ نوروزی اس میلے کا افتتاح کریں گے۔

اس میلے میں قریباً 40 ایرانی ناشران وتاجران کتب شریک ہونے والے تھے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی جامعہ کابل میں حملے کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے اپنے سفارتی عہدے داروں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

افغانستان میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سینیر سول ایلچی اسٹیفانو پونٹے کورفو نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’گذشتہ 10 روز میں کابل میں تعلیمی اداروں پر یہ دوسرا حملہ ہے۔افغان بچوں اور نوجوانوں کو اسکول جاتے ہوئے تحفظ مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور انھیں اس تحفظ کا احساس ہونا چاہیے۔‘‘

پاکستان نے بھی کابل یونیورسٹی میں اس سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔گذشتہ ہفتے کابل میں ایک اور تعلیمی ادارے پر حملے میں 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں بھی زیادہ تر طلبہ تھے۔

ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے نمایندوں کے درمیان وقفے وقفے سے امن بات چیت جاری ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان میں تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔طالبان مزاحمت کاروں کو افغان سکیورٹی فورسز پر حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے جبکہ داعش کو کابل اور دوسرے علاقوں میں شہریوں اور تعلیمی اداروں پر حملوں کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔داعش نے خود بھی ان میں سے بعض حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں