.

امریکا کی پابندیوں کے نتیجے میں ایران فوجی بجٹ میں 24 فی صد کٹوتی پر مجبور ہوگیا:پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی مہم کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں اور وہ امریکا کی پابندیوں کے نتیجے میں آیندہ سال کے مجوزہ فوجی اور سکیورٹی بجٹ میں 24 فی صد تک کٹوتی کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

یہ بات امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی مصنوعات ایرانی نظام کی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ان کے ذریعے ایرانی نظام اپنے عوام کو جبرواستبداد کا شکار کرتا اور اپنے تخریبی خارجہ مقاصد کو پورا کرتاہے۔

انھوں نے یہ بیان امریکا کی ویت نام کی ایک کمپنی اور اس کے چیف ایگزیکٹوآفیسر (سی ای او) پر پابندیاں کے نفاذ کے بعد جاری کیا ہے۔امریکا کے محکمہ خارجہ نے ویت نام کی گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی حمل ونقل کرنے والی کمپنی کا نام 5 نومبر 2018ء کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔اب محکمہ خزانہ نے بھی اس پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

پومپیو کے بہ قول اب محکمہ خارجہ نے اس کمپنی کے سی ای او پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔انھوں نے امریکا کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ’’ایرانی نظام کے کردار میں بنیادی تبدیلی کی صورت ہی میں پابندیوں میں نرمی کی جاسکتی ہے۔‘‘

امریکا کے محکمہ خزانہ نے بدھ کو ویت نام کی مذکورہ کمپنی کے علاوہ پانچ اور کمپنیوں کے خلاف بھی پابندیاں عاید کی ہیں۔ان پر ایران کی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی حمل ونقل اور فروخت کا الزام ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے اور پابندیاں عاید کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے منتخب صدر جو بائیڈن سے بھی کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کی مہم کو جاری رکھیں۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران ایلیٹ ابرامس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہمیں انھیں (جوزف بائیڈن کو)یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ 2015ء نہیں بلکہ 2021ء ہوگا۔اس دوران میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔اس لیے اب مذاکرات کے لیے اچھے فریم ورک کے فارمولے اہم نہیں رہے ہیں۔‘‘

لیکن دوسری جانب ایرانی قیادت کے لب ولہجے میں نرمی نظر آرہی ہے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر حسن روحانی کو بائیڈن انتظامیہ سے مذاکرات کا اشارہ دے دیا ہے۔انھوں نے ایک تقریر میں کہا ہے کہ’’ اگرپابندیاں ختم کردی جاتی ہیں تو ہمیں ایک گھنٹا بھی انتظار نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

ایرانی صدر نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ ’’ہماری گذشتہ تین سال سے جاری استقامت امریکا کی آیندہ انتظامیہ کو ایرانی عوام کے سامنے جھکنے پر مجبور کردے گی۔‘‘