.

لندن سمیت جنوب مشرقی برطانیہ میں کروناوائرس کوپھیلنے سے روکنے کے لیے سخت پابندیاں نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے دارالحکومت لندن اور جنوب مشرقی انگلینڈ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہفتے کی شب سےمزید سخت پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ چوتھی سطح کی ان پابندیوں کے تحت لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں اور صرف ضروری کام کی صورت میں باہر نکلیں۔

بورس جانسن نے ایک نیوز کانفرنس میں شہریوں کی نقل وحرکت پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے پاس کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ان اقدامات کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اس سے قبل انھوں نے اپنے سینیر وزراء سے لندن میں چوتھی سطح کی نئی سخت قدغنوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے کرسمس کے موقع پر لوگوں کے آزادانہ میل ملاقاتوں کو روکنے کے لیے یہ نیا فیصلہ کیا ہے۔اب برطانوی شہری کرسمس کے موقع پر صرف ایک دن کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے صرف اپنے خاندانوں سے مل سکیں گے اور انھیں آزادانہ گھلنے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی لہر چل رہی ہے، یہ لہر زیادہ خطرناک اور جان لیوا تو نہیں لیکن اس کے دوران میں بالخصوص کرسمس کے موقع پر عوامی اجتماعات کی صورت میں کووِڈ-19 کا مرض زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

دریں اثناء برطانوی حکومت نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 27052 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ کووِڈ-19 کا شکار مزید 534 افراد چل بسے ہیں۔