روس اور ترکی امریکا کی پابندیوں کے باوجود فوجی تعاون جاری رکھیں گے: وزیرخارجہ لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ترکی پر امریکا کی پابندیوں کے باوجود ماسکو اور انقرہ کے درمیان دوطرفہ فوجی تعاون پرکوئی فرق نہیں پڑے گا۔

امریکا نے اسی ماہ ترکی کے خلاف روس سے میزائل دفاعی نظام ایس-400 خرید کرنے پر اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں۔

سرگئی لاروف نے منگل کے روز ماسکو میں ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم نے امریکا کےغیر قانونی دباؤ کے باوجود ترکی کے ساتھ فوجی تعلقات قائم کرنے کے لیے باہمی عزم وارادے کی تصدیق کی ہے۔‘‘

اس موقع پر مولود شاوش اوغلو نے کہا کہ ترکی کووِڈ-19 کے علاج کے لیے روسی ساختہ ویکسین سپوتنک پنجم کو اپنے ہاں تیار کرنا چاہتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ترکی نے روس سے اس ویکسین سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے اور وزیر صحت فخرالدین کوکا نے سوموار کو صدارتی کابینہ کو بتایا تھا کہ اس ضمن میں تمام معاملہ درست سمت میں جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں