چین میں چمگادڑوں کے غاروں میں کرونا وائرس سے متعلق کیا راز ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک جانب کرونا وائرس دنیا بھر میں سترہ لاکھ سے زیادہ افراد کی جان لے چکا ہے تو دوسری جانب محققین اور سائنس دان چین کے جنوب میں پہاڑی وادیوں کا سفر کر رہے ہیں تا کہ اس کان کو دریافت کر سکیں جہاں موجود چمگادڑ کرونا وائرس کا نقطہ آغاز بنے۔

تفصیلات کے مطابق سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ مذکورہ پہاڑی علاقے میں کرونا وائرس کی بنیادوں کے شواہد موجود ہیں۔ امریکی خبر رساں ایجنسی AP کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی وبا کی بنیاد تلاش کرنے والی ایک ٹیم اس علاقے سے نمونے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ تاہم چینی حکام نے ان نمونوں کو ضبط کر کے متعلقہ ٹیم کو صحافیوں سے رابطہ کرنے سے روک دیا۔

اسی طرح ٹیم کے ارکان کو چین کی پولیس کی جانب سے تعاقب کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس سے قبل AP نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا تھا کہ چین نے گذشتہ برس کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سے اس کی بنیاد یا اصل کے بارے میں کسی بھی قسم کی تحقیق سے روک دیا۔

اسی طرح چین اس حوالے سے کسی بھی نتائج کو مسترد کرتا ہے اور کسی قسم کی معلومات یا تحقیقات نشر کرنا اسے قابل قبول نہیں۔

معلومات کے مطابق غیر جاری کردہ دستاویزات کے درجنوں ایسے صفحات ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریاست کے اعلی حکام کی جانب سے ان معاملات پر پردہ ڈالنے کے احکامات جاری ہوئے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس کرونا وائرس کے نمودار ہونے پر اس بحران کے آغاز میں چین نے ابتدائی تنبیہات پر پردہ ڈالے رکھا تھا۔ اس نے عالمی ادارہ صحت کو معلومات میں شریک کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

چین ایسی کسی بھی معلومات کے پھیل جانے سے خوف زدہ ہے جو اس بات کی جانب اشارہ کریں کہ وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز میں چینی حکومت کی غفلت شامل ہے۔

یاد رہے کہ چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد 87 ہزار تک پہنچ گئی۔ ان مین چار ہزار مریض فوت ہو چکے ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان میں سمندری غذائی اشیاء کے بازار میں پہلی مرتبہ کرونا وائرس نمودار ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں