.

معاشی اصلاحات کے مطالبے کے بعد چینی ارب پتی جیک ما لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آن لائن کاروبارکی دنیا میں چین کی سب سے بڑی کاروباری فرم 'علی بابا ڈاٹ کام' کے سربراہ جیک ما حکومت سے ملک میں معاشی اصلاحات کا مطالبہ کرنے کے بعد سے لاپتا ہیں۔ان کی گم شدگی پر کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔

یاہو فائنانس کے ذریعہ جاری کردہ ایک رپورٹ "فاکس بزنس" میں شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ علی بابا اور علی ایکسیریس جیسی میگا کاروباری کمپنیوں کے مالک ارب پتی جیک ما حکومت سے معاشی اصلاحات کا مطالبہ کرنے کے بعد منظر سے غائب ہیں‌۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ای کامرس کی دنیا کے ارب پتی تاجر دو ماہ سے لاپتا ہیں اور ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل رہی ہے۔

جیک ما نے 24 اکتوبر کو شنگھائی میں ایک تقریب سے خطاب میں چینی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ملک میں معاشی اصلاحات نافذ کرے۔ عالمی سطح‌پر کرونا وبا کے باوجود دسمبر میں چین میں انڈسٹریل شعبے کی کارکردگی میں اضافہ ہوا اور وہ وبا سے پہلے کی سطح پر قائم رہا۔

ارب پتی جیک ما کہنا تھا کہ آج کا مالیاتی نظام صنعتی دور کی میراث ہے۔ ہمیں نوجوانوں کی ایک نئی نسل تشکیل دینی چاہیئے اور ہمیں موجودہ نظام میں اصلاحات لانا ہوں‌ گی۔

یاہو فنانس نے اطلاع دی کہ جیک کو نومبر میں ہونے والے افریقی تاجروں "افریقا کے بزنس ہیروز" پروگرام میں شرکت کرنا تھی لیکن ان کی جگہ علی بابا کے ایگزیکٹو اس تقریب میں شرکت کی۔

مالیاتی سروسز فراہم کرنے والی کمپنی علی بابا اور آنٹ گروپ کو جیک ما کی تقریر کے بعد چینی حکومت کی نگرانی میں رکھا گیا۔ علی بابا کو عدم اعتماد کی تحقیقات کا سامنا ہے جبکہ آنٹ گروپ کی ابتدائی عوامی پیش کش معطل کردی گئی ہے اور کمپنی کو تنظیم نو کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

جیک ما جس کی دولت کا تخمینہ 58.4 ارب ڈالر ہے۔ اس نے کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے لاکھوں ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔