.

امریکا اورسوڈان کے معاہدۂ ابراہیم پر دست خط،اسرائیل سے معمول کے تعلقات کی راہ ہموار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور سوڈان نے بدھ کے روز معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کردیے ہیں۔اس کے تحت سوڈان اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کرے گا۔

خرطوم میں امریکی سفارت خانہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ ہم سویلین کی قیادت میں (سوڈان کی) عبوری حکمراں کونسل کو معاہدۂ ابراہیم پر آج دست خط ثبت کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔اس سے سوڈان کو استحکام ، سلامتی اور اقتصادی مواقع مہیا کرنے میں مددملے گی۔‘‘

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’اس سمجھوتے سے سوڈان ، اسرائیل اور معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کرنے والے دوسرے ممالک کو خطے میں باہمی اعتماد کی فضا سازگار بنانے اور تعاون کے فروغ میں مدد ملے گی۔‘‘

سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے دفتر کے مطابق وزیر انصاف نصرالدین عبدالباری اور امریکا کے وزیر خزانہ اسٹیفن نوشین نے خرطوم میں معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے ہیں۔

اس موقع پر امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’’یہ ایک بہت ہی اہم سمجھوتا ہے۔اس کے اسرائیل اور سوڈان کے عوام پر پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔وہ ثقافتی ، اقتصادی اور تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کام جاری رکھ سکیں گے۔‘‘

نصرالدین عبدالباری کا کہنا تھا کہ ’’سوڈان خطے میں اسرائیل اور دوسرے ممالک کے درمیان روابط اور سفارتی تعلقات کے آغاز کا خیرمقدم کرتا ہے۔اس کے لیے ہم مستقبل قریب میں مل جل کر کام کریں گے۔ہم سوڈان اور خطے کے دوسرے ممالک کے مفاد میں ان تعلقات کو وسعت دیں گے اورمضبوط بنائیں گے۔‘‘

امریکی وزیر خزانہ نے سوڈان کے ساتھ مفاہمت کی ایک اور یادداشت پر بھی دست خط کیے ہیں۔اس سے سوڈان کے ذمے عالمی بنک کے واجب الادا قرض کی ادائی میں امریکا سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔اس سمجھوتے کو سوڈان کی اقتصادی بحالی کی جانب اہم قدم قراردیا جارہا ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت سوڈان عالمی بنک سے سالانہ ایک ارب ڈالر قرض وصول کرسکے گا۔اس طرح اس کوعالمی بنک سے کوئی تین عشرے کے بعد کوئی رقم وصول ہوگی۔واضح رہے کہ اس وقت سوڈان کے ذمہ 60 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے واجب الادا ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز دہشت گردی کو اسپانسرکرنے والےممالک کی فہرست سے سوڈان کے نام کے اخراج سے متعلق حکم پر دست خط کیے تھے اور اس کے بعد امریکی وزیر خزانہ نے خرطوم کا دورہ کیا ہے۔

امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں سوڈان کا نام دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کرنے کا اعلان کیا تھا،اس فہرست میں شمالی کوریا ،ایران اور شام کے نام بھی شامل ہیں۔

انھوں نے اس کی شرط یہ عاید کی تھی کہ سوڈان کو کینیا اور تنزانیہ میں بم دھماکوں میں مارے گئے امریکیوں کے لواحقین اور دہشت گردی کے دیگر متاثرین کو ساڑھے 33 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ سوڈان نومبر میں یہ رقم امریکا کو منتقل کرچکا ہے۔

امریکا نے 1993ء میں سوڈان کو سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کے دورِحکومت میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والاملک قرار دیا تھا۔ تب القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھےاور وہ وہاں کئی سال تک (اب) برطرف صدرعمر حسن البشیر کے مہمان رہے تھے۔

امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نام کے اخراج کے بعد سوڈان کا خودمختارانہ استثنا بھی بحال ہوگیا تھا۔سوڈان کی عبوری حکومت نے امریکا سے سمجھوتے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے سے بھی اتفاق کیا تھا۔

سوڈان متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد گذشتہ چار ماہ میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے والا تیسرا ملک تھا۔اس سے پہلے ستمبر2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے طے کیے تھے۔اس کے بعد صدر ٹرمپ کی ثالثی میں مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا تھا۔