سعودی عرب: انسداد بدعنوانی کمیشن کی جانب سے کرپشن کیسز کے فیصلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے بدعنوانی کے کے متعدد نئے کیسز کی تحقیقات شروع کی ہیں جب کہ کئی کیسز کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد ان پر فیصلے سنائے گئے ہیں۔

انسداد بدعنوانی کمیشن کے ایک ذریعے نے بتایا کہ پچھلے عرصے کے دوران کمیشن نے کئی فوج داری نوعیت کے کیسز کی تحقیقات مکمل کی ہیں۔ بعض کیسز کے فیصلے سنائے گئے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی'ایس پی اے' کے مطابق حالیہ عرصے میں نمٹائے گئے پہلے کیس میں وزارت صحت کے 24 ملزمان، جنرل اتھارٹی برائے موسمیات کے15، وزارت برائے دیہی امور کے 14 ملازمین، ایک یونیورسٹی کے تدریسی عملے دو ارکان، طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے والی کمپنی کے 16 ملازمین کی کرپشن کے کیسز شامل ہیں۔ ان تمام ملزمان پر کروڑوں ریال کی خورد برد کرنے، مہنگے سفر کے ٹکٹ حاصل کرنے، ہوٹلوں میں بکنگ، گاڑیوں کے ذاتی استعمال، غیر مجاز طریقے سے اپنے مقربین کو بھرتی کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔

ایک دوسرے کیس میں اپیل کورٹ کے ایک جج کے خلاف کیس بھی شامل ہے۔ مذکورہ جج کو معطل کرنے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔اس جج پر الزام ہے کہ اس نے ایک کیس میں ایک شخص سے لگژری گاڑی رشوت میں حاصل کرکے ایک جائیداد کے بارے میں غیرقانونی فیصلہ صادر کیا۔ اس کیس میں تین دیگر ملزمان کو بھی پکڑا گیا تھا جن میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا۔

تیسرے کیس میں ایک خاتون پر اسپتال میں استعمال کے لیے لائے گئے ناقابل فروخت ہارمون انجیکشن فروخت کرنے کے بدلے 1200 ہزار ریال وصول کرنے کا الزام ہے۔ خاتون نے اس قیمت میں 45 انجیکشن فروخت کیے جن کی فروخت ممنوع تھی۔ تحقیقات کے دوران ڈسپنسری کا مالک ایک غیر ملکی کو گرفتار کیا گیا۔

چوتھے کیس میں وزارت داخلہ کے ایک افسر کو شہریوں سے سرکاری فیس کے نام پر 20 ہزار ریال وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں