وینزویلا کے صدر ،،، بائیڈن کی حکومت کے ساتھ نئے تعلقات کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کا کہنا ہے کہ "ہم امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع کرنے کے لیے تیار ہیں ، ان تعلقات کی بنیاد متبادل احترام، بات چیت رابطے اور مفاہمت پر ہو"۔ میڈورو کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کئی برس تک بحران کا شکار تعلقات کے بعد اب "نیا راستہ" تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

وینزویلا کے صدر نے یہ بات ہفتے کے روز کہی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا پر کئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان میں تیل پر عائد پابندی شامل ہے جو 2019ء سے لاگو ہے۔ اس کا مقصد میڈورو کی سوشلسٹ حکومت کو ختم کرنا تھا۔ امریکا اس حکومت کو مطلعق العنان قرار دیتا ہے۔

کئی برس تک تعلقات میں سرد مہری کے بعد آخر کار 23 جنوری 2019ء کو واشنگٹن اور کراکس کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے اپوزیشن رہ نما خوان گوائیڈو کو وینزویلا کا عارضی صدر تسلیم کر لینے کے بعد سامنے آئی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بائیڈن انتظامیہ وینزویلا کے حوالے سے زیادہ معتدل موقف اختیار کرے گی۔ ساتھ ہی وینزویلا میں نئی حکومت کی جانب منتقلی کی خاطر واشنگٹن بین الاقوامی وساطت کاروں کو بھی سپورٹ کرے گا۔

البتہ وزیر خارجہ کے منصب کے لیے بائیڈن کے نامزد امیدورار اینتھونی بلینکن وینزویلا کے صدر کو "سخت دل آمر" قرار دے چکے ہیں۔ سینیٹ میں اپنے نام کی منظوری کے جلسے کے دوران اینتھونی کا کہنا تھا کہ وہ گوائڈو کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کی تائید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں