.

صومالیہ: دارالحکومت مقدیشو میں ایک ہوٹل کے باہر زورداربم دھماکا اور فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت مقدیشو میں اتوار کو ایک ہوٹل کے باہرزوردار دھماکا ہوا ہے اور اس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔سخت گیر جنگجو گروپ الشباب نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

صومالی پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق مقدیشو میں واقع ہوٹل کے داخلی دروازے میں بم دھماکا ہوا ہے۔اس کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی تھی۔ سکیورٹی فورسز نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی۔

فوری طور پر اس بم دھماکے اور فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ الشباب کے جنگجو آئے دن صومالی دارالحکومت مقدیشو اوراس کے نواحی علاقوں میں اس طرح کے بم حملے کرتے رہتے ہیں۔صومالی حکومت کی حمایت میں اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے امن دستے بھی مقدیشو میں تعینات ہیں۔

واضح رہے کہ الشباب گروپ 2008ء سے صومالیہ کی مرکزی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مسلح کارروائیاں کررہا ہے اور وہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں اپنی سخت گیر حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔اس نے سکیورٹی حکام اور حکومتی عہدے داروں پر اب تک بیسیوں بم حملے کیے ہیں۔ان میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یادرہے کہ صومالیہ میں 1991ء میں سابق صدر سید بارے کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے۔ تب مختلف قبائلی جنگی سرداروں نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد پھر وہ باہم دست وگریبان ہوگئے تھے۔گذشتہ تین عشروں کے دوران میں صومالیہ میں بین الاقوامی کاوشوں کے باوجود امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔