.

یواے ای میں آسٹرا زینیکا کی کووِڈ-19 کی ویکسین کی آمد؛آپ کو کیا جاننا کی ضرورت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں برطانوی دواساز فرم آسٹرا زینیکا کی کرونا وائرس کی ویکسین کی پہلی کھیپ دبئی میں پہنچ گئی ہے۔یو اے ای کی ڈرگ اتھارٹی نے ملک میں اس ویکسین کے استعمال کی بھی منظوری دے دی ہے۔

اس سے پہلے یو اے ای میں امریکی کمپنی فائزر اور چین کی سائنو فارم کی ویکسین استعمال کی جارہی ہے۔البتہ فائزر کی ویکسین صرف امارت دبئی میں لگائی جارہی ہے۔

آسٹرازینیکا نے آکسفورڈ کے اشتراک سے ویکسین تیار کی ہے۔متحدہ عرب امارات میں بھارت سے اس ویکسین کی پہلی کھیپ پہنچی ہے۔

ویکسین میں شامل اجزا

آکسفورڈیونیورسٹی کی تحقیق کی روشنی میں تیار کردہ ویکسین ایڈنووائرس پر مشتمل ہے۔یہ چیمپنیز میں عمومی سردی کا سبب بنتا ہے۔اس کو اس انداز میں تبدیل کیا گیا ہے کہ یہ کسی انفیکشن کا سبب نہ بنے۔اس میں کرونا وائرس کا جزو بھی شامل ہے تاکہ یہ انسانی جسم کے خلیوں میں داخل ہونے کے بعد مدافعتی ردعمل کو مہمیز دے سکے۔

ایم آر این اے وائرسوں کے برعکس آسٹرا زینیکا کی ویکسین کی تیاری میں دُہرے معیار کا ڈی این اے استعمال کیا گیا ہے۔اس میں ایڈنو وائرس کا ایک سخت کوٹ ہے تاکہ اس کے اندر موجود جینیاتی مواد کے تحفظ میں مدد مل سکے۔اس ویکسین کو منجمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کن افراد کو ویکسین لگائی جائے گی

دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی کلینکل سپورٹ سروسز اور نرسنگ سیکٹر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) ڈاکٹرفریدہ الخاجا نے بتایا ہے کہ آسٹرا زینیکا کی ویکسین 18 سے 60 سال عمر کے اماراتیوں کے لیے دستیاب ہوگی۔اس کے علاوہ عمر کے اسی گروپ کے دائمی امراض کا شکار ایسے مکینوں کو بھی ویکسین لگائی جائے گی، جن کے پاس کارآمد ویزا ہوگا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سنٹرل ویکسی نیشن سنٹر میں ویکسین دستیاب ہوگی۔کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں محاذِ اوّل پر کردار ادا کرنے والے سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین بھی ویکسی نیشن فیلڈ سنٹر پر ویکسین لگوا سکیں گے۔

ان زمروں میں شامل افراد اپنے آجر اداروں کے ذریعے ویکسین لگوانے کی غرض سے وقت لے سکتے ہیں۔

تاہم بچّے آسٹرازینیکا کی ویکسین لگوانے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ابھی تک اس ویکسین کی کم سن بچّوں پر جانچ نہیں کی گئی ہے اور اس کو صرف بالغ افراد پر آزمایا گیا ہے۔