.

اسرائیلی وزیراعظم نے آئی سی سی کی رولنگ کو یہود مخالف قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق حکم کو مسترد کردیا ہے اور اس کو یہود مخالف قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’وزیراعظم اسرائیل کی حیثیت سے میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنی تمام طاقت سے اس ’’ڈھونگ انصاف‘‘ کے خلاف لڑیں گے۔یہ خالصتاً یہود مخالف ہے۔‘‘

ہیگ میں قائم آئی سی سی نے جمعہ کو اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ ’’مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورت حال اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔‘‘اس کے بعد ٹرائبیونل وہاں جنگی جرائم کی تحقیقات کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کی پراسیکیوٹر فاتو بن سودہ نے عدالت سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دائرہ اختیار سے متعلق قانونی رائے دینے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔انھوں نے دسمبر 2019ء میں کہا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کی تحقیقات کرنا چاہتی ہیں۔

آئی سی سی نے کہا ہے:’’اس کے ججوں نے کثرت رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کی صورت حال عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ان علاقوں میں غزہ اور مشرقی القدس سمیت غرب اردن شامل ہیں۔ان پر اسرائیل نے 1967ء سے قبضہ کررکھا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ فلسطین نے 2015ء میں آئی سی سی کے قیام سے متعلق معاہدہ روم پر دست خط کیے تھے جبکہ اسرائیل اس معاہدے میں شامل نہیں ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے زیرقبضہ علاقوں میں اس بین الاقوامی عدالت کی عمل داری تسلیم نہیں کرتا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے آئی سی سی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کو انصاف ، انسانیت ،سچائی ،شفافیت اور آزادی کی اقدار ،فلسطینی مقتولین کے خون اور ان کے خاندانوں کی فتح قرار دیا ہے۔

لیکن نیتن یاہو نے اس فیصلے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئی سی سی کی ’’جعلی جنگی جرائم‘‘ کی تحقیقات کو مسترد کرتے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’یہ عدالت یہودی عوام کے خلاف نازی ہولوکاسٹ ایسی چیرہ دستیوں کو روکنے کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن اب اس نے یہودی عوام کی ریاست ہی کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کوایران اور شام کی سفاک آمریتوں کے خلاف تحقیقات کرنی چاہیے۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے بھی آئی سی سی کے حکم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل اس عدالت کا رکن نہیں،اس لیے اس کو کسی طرح اس کا پابند نہیں بنایا جانا چاہیے۔