.

ابھا کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے بارودی ڈرون کا حملہ، امریکا کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز یمن میں سرگرم حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے ابھا ائر پورٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ پریس سیکرٹری جین ساکی نے میڈیا کے نمائندوں کے سامنے ایران کی پروردہ ملیشیا کو یمن میں جنگ کو طوالت دینے پر ہدف تنقید بنایا۔

ان کا کہنا تھا ’’کہ ہم ابھا میں سعودی عرب کے سویلین ہوائی اڈے پر حوثیوں کی جانب سے آج بروز بدھ کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب خصوصی ایلچی لینڈر کنگ خطے کے اپنے پہلے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

’’العربیہ‘‘ کی نامہ نگار کے سوال کے جواب میں جین ساکی کا کہنا تھا کہ ’’ایسا لگتا ہے حوثی سعودی عرب بشمول سویلین شہریوں پر آئے روز حملوں کے ذریعے یمن کی جنگ کو طول دینے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی سفارت تعلقات اور خطے میں دوسرے ہم خیال اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر مذکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کوشش جاری رکھے گا۔‘‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ ’حوثی صدر جو بائیڈن کی طرف سے امن مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں میں تعمیری طور پر شامل ہوں‘۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ رائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’یمن جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ہم پھر حوثیوں سے فوری طور ان جارحانہ کارروائیوں کو بند کرنے پر زور دیتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ واشنگٹن نے یہ بیان ابہا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر بارودی ڈرون سے حوثیوں کے حملے کے چند گھنٹے بعد جاری کیا ہے۔