.

سعودی عرب یمنی حوثیوں سے دہشت گردتنظیم ایسا ہی معاملہ کرے گا:عبداللہ المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ دہشت گرد تنظیم ایسا ہی معاملہ کرے گا، خواہ امریکا ان کے بارے میں کوئی اور فیصلہ کرتا ہے اور انھیں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیتا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے سعودی ملکیتی الشرق نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا’’ہم تو اب بھی حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں،اس کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کررہے ہیں اور اس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی کررہے ہیں۔‘‘

امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے گذشتہ جمعہ کو حوثی ملیشیا کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان کا یہ حکم منگل 16 فروری سے نافذالعمل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یمن میں ابترانسانی صورت حال کے پیش نظر کیاگیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے اقتدار کے آخری روز یمنی حوثیوں کو امریکا کی غیرملکی دہشت گرد تنظیموں(ایف ٹی او) کی فہرست میں شامل کیا تھا اور اس کے بعض لیڈروں کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ دنیا کی بعض دوسری حکومتوں ، عالمی امدادی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ امریکا کے اس فیصلے سے یمن ایک بڑے قحط سے دوچار ہوسکتا ہے۔

عبداللہ المعلمی کا کہنا تھا کہ ''امریکی انتظامیہ قیادت میں تبدیلی کے بعد انتقالِ اقتدار کے عمل سے گزر رہی ہے۔اقوام متحدہ میں امریکا کے مشن میں تبدیلی سے بھی اس کی عکاسی ہوتی ہے۔ہم اس کو سمجھتے ہیں۔ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آیندہ مرحلہ مشکل ہوگا اور فیصلہ سازی سست رفتار ہوگی لیکن تعاون جاری رہے گا۔‘‘

صدرجوبائیڈن نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ دور کے بہت سے فیصلوں پر نظرثانی کی ہے،انھیں بالکل کالعدم قرار دے دیا ہے یاان میں سے بعض کو تبدیل کردیا ہے۔اس کا مقصد یمن میں جاری بدترین انسانی بحران کا خاتمہ اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تیز سفارت کاری کو بروئے کار لانا ہے۔

صدر بائیڈن نے گذشتہ ہفتے یمن میں عرب اتحاد کی حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت ختم کرنے کا بھی اعلان کردیا تھا۔پہلے امریکا ان فوجی کارروائیوں کی حمایت کررہا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت کررہا ہے اورایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگی کارروائیاں کررہا ہے۔