.

ایرانی بلوچستان میں ایندھن کے تاجروں کا قتل ، حمایت کے لیے ٹویٹر پر مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جنوب مشرق میں واقع صوبے بلوچستان میں سراوان کے علاقے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کے ہاتھوں فائرنگ سے ایندھن کے حامل 10 افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے نے عوامی سطح غصے کی لہر دوڑا دی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹویٹر پر ہزاروں صارفین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے مہم شروع کر دی۔

ٹویٹر پر صارفین نے ایندھن کے تاجروں کے قتل اور سیستان بلوچستان میں سراوان شہر کی حدود پر بلوچیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر احتجاج کیا ہے۔ صارفین نے شہر کے لوگوں کے اس احتجاج کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا کس آغاز منگل کے روز سے ہوا۔ شہر کے متعدد باسیوں اور متاثرہ افراد کے گھرانوں نے گذشتہ روز سراوان کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ بعد ازاں یہ لوگ دفتر میں داخل ہو کر وہاں کئی گھنٹوں تک رہے۔

سراوان شہر میں گذشتہ دو روز میں جھڑپوں کے دوران تین افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ کم از کم آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے۔

ٹویٹر پر صارفین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کا نشانہ بننے والے افراد نے ایندھن کی تجارت ،،، غربت اور بے روزگاری کے سبب اختیار کی۔ ایرانی خاتون صحافی ویدا ربانی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "یہ لوگ بآسانی گولیاں چلا دیتے ہیں۔ ماچس چرانے والے کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ہیں ،،، مگر کوئی بھی بڑے اسمگلروں اور غیر قانونی چبوتروں کے ساتھ نہیں نمٹتا ،،، اگر ملک میں یہ بدعنوانی نہ پھیلی ہوتی تو اس قوم کو کیا ضرورت تھی کہ روٹی کے ٹکڑے کی خاطر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو لے"۔

انسانی حقوق کی کارکن الہام صالحی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ "اگر آپ ایک مرتبہ سراوان جائیں تو اسمگلر اور ایندھن کے تاجروں کا فرق اچھی طرح جان لیں گے۔ ان میں سے جب کوئی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کا زندہ سلامت واپس لوٹ آنا نصیب کے مرہون منت ہوتا ہے"۔

ایرانی صحاف محمد آقا زادہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "دس برسوں کے دوران ملک سے اربوں ڈالر بیرون ملک اسمگل ہو گئے۔ اب تک کرنسی کے کسی اسمگلر کا پتہ چلا کر اس کا تعاقب کیوں نہیں کیا گیا۔ اسمگل شدہ رقم سے ملک کا مقدر بدلا جا سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایندھن کے تاجروں اور قُلیوں کو روزگار میسر آ سکتا تھا"۔

سراوان ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کا ایک مرکزی شہر ہے۔ یہ ملک کے سب سے زیادہ شورش زدہ اور سب سے کم ترقی پانے والے علاقوں میں سے ہے۔