.

سعودی عرب مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے بعد عالمی درجہ بندی میں آگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے خواتین کی مختلف شعبوں میں روزگار یا کاروبار کے سلسلے میں شمولیت کے بعد مسلسل دوسرے سال عالمی بنک کی درجہ بندی میں بہتر مقام حاصل کر لیا ہے اور اس نے عالمی بنک کی ’’خواتین ، کاروبار اور قانون 2021ء‘‘ نامی رپورٹ میں 100 میں 80 پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔

عالمی بنک کی ویب سائٹ کے مطابق اس رپورٹ میں دنیا کی 190 معیشتوں میں خواتین کو اقتصادی مواقع مہیا کرنے سے متعلق قوانین ، قواعد وضوابط اور قانونی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ ملاحظہ کیا گیا ہے کہ دنیا کے ملکوں نے خواتین کو معاشی ترقی کے مساوی مواقع مہیا کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے ہیں۔

گذشتہ سال عالمی بنک کی اسی عنوان سے رپورٹ میں سعودی عرب نے 100 میں 70۰5 پوائنٹس حاصل کیے تھے۔اس سال اس کے پوائنٹس 80 ہیں اور وہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے خطے میں سرفہرست ہے۔

عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق سعودی مملکت کی یہ کامیابی خواتین سے متعلق قانونی اصلاحات اور قواعد ضوابط کی توثیق کی مظہر ہے۔سعودی عرب نے لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزگار کے تمام شعبوں میں صنفی مساوات کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

عالمی بنک کی رپورٹ میں سعودی عرب نے پانچ اشاریوں:حرکت پذیری ،پنشن ، انٹرپری نیورشپ ، کام کی جگہ اور تن خواہ کی جانچ میں سے 100 میں سے 100 اسکور کیا ہے۔

سعودی وزیر تجارت اور قومی مسابقتی مرکز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مملکت میں اصلاحات کے نفاذ میں گہری دلچسپی کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔

انھوں نے اقتصادی ترقی میں خواتین کے کردار میں اضافے کے لیے قانونی اصلاحات پر عمل درآمد کرنے والے سرکاری اداروں کو بھی سراہا ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب کا علاقائی اور عالمی سطح پر مسابقتی درجہ بھی بلند ہوا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ویژن 2030ء نے ان اصلاحات کے نفاذ میں اہم محرک کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویژن 2030 کے تحت لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شمولیت کو 22 فی صد سے بڑھا کر 30 فی صد کیا جائے گا۔

اس ویژن کے تحت مملکت میں کاروبار کرنے والے ادارے اور فرمیں سعودی شہریوں کو زیادہ تعداد میں ملازمتیں دینے کے پابند ہیں اور بہت سی ملازمتیں اور اُجرتی کام صرف سعودی شہریوں کے لیے مخصوص کیے جارہے ہیں اور سعودی خواتین کو بھی ملازمتیں دی جارہی ہیں۔ یوں مملکت کی افرادی قوت میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔