.

سعودی عرب پر یمن سے حوثی ملیشیا کے حملوں میں شدت پرامریکا ’’مشوش‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے سعودی عرب پر یمن سے حوثی شیعہ ملیشیا کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا کو ان حملوں میں شدت پر تشویش لاحق ہے۔

جین ساکی نے سوموار کو العربیہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ ہم سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں شدت پر مسلسل مشوش اور چوکنا رہیں گے۔اس طرح کے حملوں میں شدّت ایک ایسے گروپ کی کارروائیاں نہیں ہوسکتیں جو امن میں سنجیدہ ہے۔‘‘

انھوں نے حوثیوں کے حملوں کو’’ناقابل قبول اور خطرناک‘‘ قرار دے کران کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا ان متواترحملوں کے ضمن میں سعودی عرب سے قریبی رابطے میں ہے اور اس کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

ساکی کا کہنا تھا کہ ’’ہم سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے دفاع اور اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امداد میں بہتری کا جائزہ لیں گے ۔‘‘

ایران کے حمایت حوثیوں نے گذشتہ دس پندرہ روز سے سعودی عرب کے شہروں اور شہری اہداف پر حملے تیز کررکھے ہیں۔ انھوں نے اتوار کو سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہ راس تنورہ پر ڈرون سے حملہ کیا تھا اورمملکت کے مشرق میں واقع شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کوبیلسٹک میزائل کے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

سعودی عرب کے ایک سرکاری بیان کے مطابق راس تنورہ کی بندرگاہ پر پیٹرولیم کے ایک ٹینک پر سمندر سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا اور ظہران میں سعودی آرامکو کے اقامتی علاقے میں بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرے تھے۔حکام کے مطابق ان دونوں حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔