.

ایران کے جوہری پروگرام کی تحقیقات آئی اے ای اے کاغیرمختتم کام ہے:رافاعل گراسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کی بین الاقوامی تحقیقات ایک غیرمختتم کام ہے اور اس کی تکمیل میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافاعل ماریانو گراسی نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’اگر ایران گذشتہ سال اپنی مختلف غیرعلانیہ تنصیبات سے ملنے والے یورینیم کے ذرّات کی وضاحت بھی کردے تو بھی بین الاقوامی معائنہ کاروں کا کام ختم نہیں ہوگا۔‘‘

انھوں نے کہا:’’اس معائنے کے نتیجے میں اضافی معلومات بھی دستیاب ہوسکتی ہیں۔(ہتھیاروں کے) عدم پھیلاؤ میں یہ کوئی حتمی ،یقینی صحت کا صاف بل نہیں ہے۔‘‘

گراسی کی رائے میں’’آیندہ چند ماہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔اس دوران میں اعلیٰ سیاسی سطح پر بالمشافہ ٹاکرے ہوں گے۔‘‘ان کا اشارہ ایران اور امریکا کے درمیان مستقبل قریب میں جوہری پروگرام پر ممکنہ مذاکرات کی طرف تھا۔

امریکی صدر جوزف بائیڈن ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں لیکن انھوں نے اس کی یہ شرط عاید کی ہے کہ ایران پہلے اس سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے اور حساس جوہری کام بند کردے جبکہ ایران امریکا سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں عاید کردہ تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔صدر ٹرمپ نے 2018ء میں جوہری سمجھوتے کوخیرباد کہہ دیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

آئی اے ای اے اور ایران نے گذشتہ ہفتے اپریل میں جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق مزید بات چیت سے اتفاق کیا تھا۔اس میں ٹیکنیکل ماہرین اس امر پر غور کریں گے کہ عشروں پرانے یورینیم کے ذرّات تہران میں ایک گودام کے علاوہ دوسری تنصیبات میں کیسے پائے گئے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیلی جاسوسوں نے سب سے پہلے ان کا سراغ لگایا تھا۔

ماضی میں آئی اے ای اے کے ماہر انسپکٹر صاحبان 12 سال تک ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کرتے رہے تھے۔ان کی تحقیقات کا مقصد ایران کی حساس جوہری سرگرمیوں کا سراغ لگانا تھا کہ آیا وہ جوہری بم کے لیے درکار یورینیم کو افزودہ تو نہیں کررہا ہے۔2015ء میں ایران نے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے میں اپنے حسّاس جوہری پروگرام کو منجمد کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

لیکن امریکا کے سابق صدر ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے ایک سال کے بعد 2019ء میں ایران نے دوبارہ یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنا شروع کردیا تھا اور دو ہفتے پہلے ہی آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں پر اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے پر بعض قدغنیں عاید کردی ہیں۔

اس تناظر میں رافاعل گراسی کا کہنا ہے کہ ’’ایران میں جوہری مواد پر پہرا ایک مستقل عمل ہے اور معائنہ کاری کو عالمی سیاست میں سودے بازی کا ایک ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔اس لیے براہ مہربانی آئی اے ای اے کو درمیان میں نہ لایا جائے کیونکہ معائنے کا کام ایک پیشگی شرط ہے۔‘‘