.

سعودی عرب:کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے والوں کی تعداد 17لاکھ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اب تک 17 لاکھ سے زیادہ افراد کو کووِڈ-19 کی ویکسین کے انجیکشن لگائے جاچکے ہیں۔

سعودی وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمدالعبدالعالی نے جمعرات کے روزنیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ مملکت بھر میں ویکسین لگانے کے لیے 500 سے زیادہ مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ ویکسین کی ہرشہری اور مکین کے لیے دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔ان مراکز میں تمام اہل افراد کو حکومت کی جانب سے مفت ویکسین لگائی جارہی ہے۔

ترجمان نے سعودی شہریوں اور تارکِ وطن مکینوں پر زوردیا ہے کہ وہ وزارت کی صحتی ایپ پر اپنے ناموں کا اندراج کرائیں تاکہ انھیں دستیاب ویکسینوں میں سے کسی ایک کے انجیکشن لگائے جاسکیں۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ مملکت میں منظور شدہ ویکسینیں مؤثر اور محفوظ ہیں اور ان کے اب تک کوئی ضمنی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔

وزارت صحت نے بدھ کو کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کی قومی مہم میں توسیع کا اعلان کیا تھا اوراب اس میں ملکی آبادی کے تمام طبقات کو شامل کیا جارہا ہے۔پہلے صرف مخصوص لوگوں کو ویکسین لگائی جارہی تھی۔

سعودی حکام کے مطابق اب تک ترجیحی گروپوں سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے اور اسی وجہ سے اب وزارت صحت دوسرے گروپوں کو بھی کرونا وائرس سے بچانے کے لیے ویکسین لگا رہی ہے۔

وزارت صحت کے منظورشدہ الیکٹرانک نظام کے مطابق ویکسین لگوانے کے خواہاں شہریوں کے پاس کارآمد قومی شناختی کارڈ اور تارکین وطن کے پاس کارآمد اقامے ہونے چاہییں۔ویکسین لگوانے کے خواہاں تمام اہل افراد وزارتِ صحت کی ’صحتی ایپ‘ پر اپنے ناموں کا اندراج کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد وہ دستیاب تاریخوں کے مطابق ویکسین لگوانے کے لیے براہ راست وقت لے سکتے ہیں اور کسی نزدیک ترین ویکسی نیشن مرکز میں مقررہ وقت پر پہنچ کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

مملکت میں کووِڈ-19 کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والوں کو آن لائن صحت پاسپورٹ بھی جاری کیا جارہا ہے۔یہ صحت پاسپورٹ وزارت صحت کی توکلنا ایپ پر دستیاب ہے۔کووِڈ-19 کی ویکسین کی دوسری خوراک لگوانے والے شخص کو چند سیکنڈز ہی میں توکلنا ایپ پرخودکار طریقے سے صحت پاسپورٹ جاری ہوجاتا ہے۔

سعودی عرب دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کاوشوں کے حصے کے طور پر’’صحت پاسپورٹ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے۔اس سے حکام کو ویکسین لگوانے والے افراد کی شناخت میں مدد ملے گی۔