.

حوثیوں کا یمن میں دہشت گردی کے لیے القاعدہ اورداعش سے گٹھ جوڑ:انٹیلی جنس رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اپنی ایک خفیہ رپورٹ میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر عوام کے خلاف دہشت گردی کے مقاصد کے لیے القاعدہ اورداعش کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عاید کیا ہے۔ یمنی انٹیلی جنس کی مرتب کردہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ہے۔

یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ رپورٹ مصدقہ انٹیلی جنس معلومات اور حقائق پر مبنی ہے۔یہ حوثی ملیشیا کی القاعدہ اور داعش دونوں سے قریبی تعلق داری پر روشنی ڈالتی ہے۔یہ دراصل ایران اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان تعلقات کی ایک توسیع ہی ہے۔‘‘

’’رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یہ ملیشیائیں یمنی عوام کے خلاف دہشت گردی برپا کرنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات کو استعمال کررہی ہیں۔‘‘

خفیہ معلومات کا غلط استعمال

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ستمبر2014ءمیں جب صنعاء پرقبضہ کیا تھا تو انھوں نے حکومت کے معلومات اکٹھا کرنے کے تمام قومی اور سیاسی سکیورٹی اداروں پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔حوثیوں نے ان معلومات کا القاعدہ اور داعش سے تعلقات استوار کرنے کے لیے غلط استعمال کیا ہے۔

یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی اور دہشت گرد تنظیمیں سکیورٹی اور انٹیلی جنس سمیت مختلف شعبوں میں آپس میں تعاون کررہی ہیں۔انھوں نے دہشت گرد تنظیموں کے بہت سے ارکان کو محفوظ پناہ گناہیں مہیّا کی ہیں۔انھوں نے یمنی حکومت کے تحت فورسز کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی ہیں۔حوثی گروپ دہشت گرد تنظیموں سے نبردآزما ہونے کے بجائے انھیں محفوظ پناہ گاہیں مہیّا کررہا ہے۔

رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے 252 دہشت گرد قیدیوں کو اپنے زیرقبضہ جیلوں سے رہا کیا ہے۔ یہ تمام دہشت گرد صنعاء اور دوسری گورنریوں میں قومی اور سیاسی سکیورٹی کی جیلوں یا حراستی مراکز میں بند تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے القاعدہ کے دہشت گرد جمال محمد البداوی کو بھی جیل سے رہا کردیا تھا۔ وہ امریکا کے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس کول پر اکتوبر2000ء میں بم حملے میں ملوّث تھا۔عدن کی بندرگاہ پر اس خودکش بم حملے میں امریکی بحریہ کے 17 سیلرز ہلاک اور39 زخمی ہوگئے تھے اوربحری بیڑے کونقصان پہنچا تھا۔

یمنی حکومت کے مطابق اس وقت صنعاء اور حوثیوں کے زیرقبضہ دوسرے علاقوں میں القاعدہ کے 55 دہشت گرد موجود ہیں۔اس نے رپورٹ میں القاعدہ کے بعض ارکان کے بیانات بھی شامل کیے ہیں۔وہ حوثیوں کی طرف سے یمنی فورسز کے خلاف لڑائی میں پکڑے گئے تھے۔

القاعدہ کے ایک رکن موسیٰ نصیر علی حسن الملحانی نے حوثی ملیشیا کی صفوں میں اپنی تنظیم کے جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہےاورکہا ہے کہ ایران کا حمایت یافتہ گروپ صنعاء میں یمنی فورسز کے خلاف لڑائی میں القاعدہ کے جنگجوؤں پر انحصار کررہا ہے۔

یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی اوردہشت گرد تنظیموں نے مجرمانہ کارروائیوں کی مربوط اندازمیں منصوبہ بندی کی ہےجس سے یمن اورخطے کے علاوہ بین الاقوامی جہازرانی کی سکیورٹی اوراستحکام کوخطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

یمنی حکومت نےسلامتی کونسل اورعالمی برادری پرزوردیا ہے کہ وہ ان ملیشیاؤں کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور وہ یمن کی قانونی حکومت اور قومی فوج کی حوثی ملیشیا کی منظم دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کے خلاف جنگ میں ساتھ دیں۔‘‘