.

یمن میں حوثیوں کی اقتصادی سلطنت کے نمایاں ترین "تاجر" کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آزاد اور خود مختار ذرائع نے باغی حوثی ملیشیا کی اقتصادی سلطنت کے فنڈنگ کے ذرائع اور اس سلطنت کے ضمن میں کام کرنے والی کمپنیوں کے حوالے سے نئی معلومات کا انکشاف کیا ہے۔ معلومات میں مذکورہ عناصر کی جانب سے اس مواد کی درآمد اور اسمگلنگ کا طریقہ کار بھی شامل ہے جو دھماکا خیز آلات کی تیاری میں کام آتا ہے۔

یمن میں باغی حوثیوں کی مالی سرگرمیوں اور ان کی جانب سے لوٹی گئی املاک پر نظر رکھنے والے گروپ کے منصوبے "مبادرة استعادة" (Regain Yemen) کی جانب سے ایک نئی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا ایک مخصوص روش اور پالیسی پر کاربند ہے جس کا مقصد "یمنیوں سے ان کی املاک اور کمپنیاں لُوٹ کر انہیں غربت کے گڑھے میں دھکیلنا" ہے۔ حوثیوں نے یہ حکمت عملی ایران سے لی ہے۔

رپورٹ میں دغسان محمد دغسان گروپ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس گروپ میں 11 کثیر المقاصد کمپنیاں شامل ہیں۔ حوثی ملیشیا ان کمپنیوں کو استعمال میں لا کر دھماکا خیز مواد کی تیاری کے لیے مخصوص کھاد برآمد کرنے، مالی رقوم کی منتقلی، تیل کی مصنوعات درآمد کرنے اور انہیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کے حوالے سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ "دغسان گروپ" کو ایک حوثی رہ نما دغسان احمد دغسان چلا رہا ہے۔ گروپ میں شامل 11 کمپنیاں ان اہم ترین کمپنیوں میں سے ہیں جن پر حوثیوں کا اقتصادی ڈھانچا کھڑا ہوا ہے۔

دغسان اس گروپ کو حوثی ملیشیا کے ہمنوا اپنے متعدد عزیز و اقارب کے نام سے چلا رہا ہے۔ گروپ کی سرگرمیوں میں تیل، ادویات اور طبی لوازمات کی تجارت کے علاوہ تمباکو کی تیاری، مالی رقوم کی منتقلی اور درآمدات اور برآمدات سے متعلق کئی سرگرمیاں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دغسان گروپ نے کیڑے مار دوائیوں، زرعی کھاد اور زرعی ساز و سامان اور لوازمات کی منڈیوں پر بھی کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ اس میں یوریا کی حامل کھاد خاص طور پر شامل ہے جو دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دغسان گروپ میں ایک نئی پراپرٹی کمپنی بھی شامل ہے۔ یہ عام ٹھیکوں کے شعبے میں کام کے لیے مخصوص ہے۔ احمد دغسان ذاتی طور پر اس کمپنی کی نگرانی کرتا ہے۔

رپورٹ میں ایسی تدابیر کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں جن کے ذریعے حوثیوں کو مالی معاملات اور تیل اور اسلحے کی اسمگلنگ سے روکا جا سکے۔ ان سرگرمیوں کے سبب حوثیوں کو جنگ کو طول دینے اور یمن میں امن کی غرض سے پیش کیے جانے والے منصوبے مسترد کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ اسی طرح ایک بین الاقوامی کمیٹی قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے جو حوثیوں کے ہاتھوں لوٹی گئی مالی رقوم واپس لے سکے اور کمپنیوں کا کنٹرول ان کے مالکان کو واپس دلوا سکے۔