.

امریکاکی ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں پر یمن میں جنگ بندی کی پاسداری نہ کرنے پر تنقید 

حوثیوں کی مآرب جنگی کارروائی اور سعودی عرب پر روزانہ ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی یمن میں جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے۔انھیں مآرب میں فوری طور پر اپنی جنگی کارروائی روک دینی چاہیے۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سلامتی کونسل میں جمعرات کو یمن کے بارے میں خصوصی اجلاس میں کہا ہے کہ ’’حوثیوں کے آج تک کے اقدامات سے ہمیں نہیں لگتا کہ وہ تنازع کا کوئی پُرامن حل چاہتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم حوثیوں کی مآرب کے نواح میں بے گھر افراد کی خیمہ بستیوں میں تشدد آمیز کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ہم سعودی عرب پر ان کے کم وبیش روزانہ ڈرون اور میزائل حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔‘‘

تھامس گرین فیلڈ نے مزید کہا کہ ’’حوثیوں کی مآرب میں جاری کارروائی کے نتیجے میں عام یمنی مررہے ہیں اور ان مہلوکین میں ملک کے دوسرے علاقوں سے دربدر ہونے والے یمنی شہری بھی شامل ہیں۔‘‘

امریکی صدر جوبائیڈن نے برسراقتدار آنے کے بعد یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اپنا ایک خصوصی نمایندہ مقرر کیا تھا اوراس نمایندہ نے حوثیوں سے مذاکرات بھی کیے تھے لیکن ابھی تک انھوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے اور مآرب میں فوجی کارروائی کے علاوہ سعودی عرب کے شہروں اور شہری تنصیبات پرحملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کے حوثی ملیشیا اور اس کے لیڈروں کے نام امریکا کی دہشت گردی تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے سے بھی اس گروپ کو حوصلہ ملا ہے اور وہ اب اپنی تشدد آمیز کارروائیوں کو ترک کرنے کو تیار نہیں۔

سعودی عرب نے گذشتہ ماہ یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے نیاامن منصوبہ پیش کیا تھا۔اس کے تحت حوثی ملیشیا اور یمنی حکومت کے درمیان ملک بھر میں فوری جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی۔امریکا اور یورپی ممالک نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا لیکن حوثیوں نے ابھی تک اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔

امریکی سفیر نے سعودی عرب اور یمنی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلانات اور بحران کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی تجویزکا خیرمقدم کیا ہے اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ پر زوردیا ہے کہ وہ بھی ان امن کوششوں کا مثبت جواب دے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ تشدد بہت ہوچکا اورانسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ حوثی ملک گیر جنگ بندی کی تجویز کا جواب دیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تقاضوں کی پاسداری کریں اور اس کے تحت شہریوں کو تحفظ مہیا کریں۔‘‘