.

نیوم' سٹی منصوبے میں توانائی کا مثالی حل پیش کرنے والی ہونہار سعودی طالبہ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جدید سہولیات سے آراستہ شہر'نیوم' بسانے کے لیے جہاں حکومتی سطح‌ پر کوششیں جاری ہیں وہیں سعودی عرب کے ہونہار نوجوان بھی اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کی ایک 16 سالہ لڑکی جنیٰ الریفی نے نیوم سٹی منصوبے کے لیے توانائی کا ایسا حل پیش کیا ہے جس پر بڑے بڑے سائنسدان ششدر رہ گئے ہیں۔ نیوم سٹی پروجیکٹ میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے یہ ایک اہم سائنسی پیش رفت ہے۔ ہونہار سعودی طالبہ نے بتایا کہ اس کا مقصد نیوم شہر کے منصوبے میں امونیا کے استعمال سے گرین ہائیڈروجن کی فزیبلٹی کا مطالعہ کرنا تھا۔ جب اس کا پیش کردہ فارمولہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا تو اس کی غیر معمولی سطح پر تحسین کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جنیٰ الریفی نے کہا کہ آج فوسل ایندھن توانائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ، جوکاربن ڈائی آکسائیڈ کے غیر معمولی اخراج کا باعث بنتا ہے۔ یہ اضافہ عالمی حدت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ جب سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی مہم چلی ہے گرین ہائیڈروجن نے متبادل ایندھن کے طور پر خود کو ایک متبادل کے طور پیش کیا ہے۔ جو توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے کم سے کم اخراج کا باعث بنتا ہے۔ اس نے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ گرین ہائیڈروجن کی تیاری کے لیے NEOM شہر ایک مثالی مقام ہے جس میں قابل تجدید توانائی کا 100 فیصد نظام اپنایا گیا ہے۔

جنیٰ الریفی نے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ کا مقصد جس پر میں نے کام کیا ہے وہ نیوم میں گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور ہوا کی توانائی کے استعمال سے اس کی نقل وحمل کے طریقہ کار کے بارے میں ہماری تفہیم کو بہتر بنانا ہے۔ میں‌جانتی ہوں کہ اس میدان میں بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔ سبز امونیا پیدا کرنے کےلیے نیوم میں تجربات کیے گئے ہیں۔