.

یونان اور اسرائیل کے درمیان سب سے بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارت دفاع نے آج اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور یونان کے درمیان دفاع کے شعبے میں سب سے بڑے سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں۔

اسرائیلی اخبار Jerusalem Postکے مطابق دونوں ملکوں نے دفاعی خریداری کے سب سے بڑے سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ اس ضمن میں یونان کی فضائیہ نے ایک سمجھوتا طے کیا ہے جس کی رُو سے اسرائیلی کمپنیElbit Systems یونان کی فضائیہ کے لیے ایک تربیتی مرکز چلائے گی۔ حالیہ سمجھوتے کی قیمت تقریبا 1.65 ارب ڈالر ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی کمپنیElbit کے مطابق وہ"M-346" ماڈل کا ایک نیا تربیتی طیارہ فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں یونانی فضائیہ کے لیے 20 برس تک مکمل تربیتی بیڑے کو برقرار رکھے گی۔ اس بیڑے میںM-346 اور T-6 ماڈل کے درجنوں طیارے شامل ہوں گے۔

اس سے قبل یونان کے وزیر خارجہ نکوس ڈینڈیاس نے اپنے قبرصی اور اسرائیلی ہم منصبوں نکوس کرسٹوڈولیڈس اور گابی اشکینازی کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ یونان، قبرص اور اسرائیل کے تعلقات خطے میں امن کی ضمانت ہیں۔

نکوس ڈینڈیاس نے منگل کے روز ایتھنز میں تینوں وزارئے خارجہ کے اجلاس کے اختتام کے بعد کہا کہ یونان، قبرص اور اسرائیل مفاہمت کا ایک نیا جغرافیا تخلیق کر رہے ہیں۔

یونانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "بدقسمتی سے ہمارا یہ اجلاس ترکی کی جانب سے نئے غیر قانونی اقدامات کے دباؤ کے تحت ہو رہا ہے"۔