.

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سے چینی صدرکاتزویراتی شراکت داری کے فروغ پر تبادلہ خیال 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے صدر شی جین پنگ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے منگل کے روز ٹیلی فون پر دوطرفہ تعلقات کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ چین سعودی عرب کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کونئی بلندیوں تک لے جانے کو تیار ہے۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی ژنھوا کے مطابق فون کال میں دونوں لیڈروں نے توانائی ، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے ان سے گفتگو میں کہا کہ ’’چین سعودی عرب کا ایک ’’قابلِ اعتماد بھائی‘‘ ہے۔وہ اپنے ویژن 2030ء کو صدر شی کے ایک بیلٹ ،ایک شاہراہ اقدام (ایک بیلٹ،ایک روڈ تجارت اور انفرااسٹرکچر اوبور) کے ساتھ تزویراتی طورپر مربوط بنانے کو تیار ہے۔‘‘

سعودی عرب اپنے اس ویژن کے تحت قومی معیشت کو متنوع بنارہا ہے اور وہ مستقبل میں تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔اس مقصد کے لیے وہ دوسرے اقتصادی شعبوں کی ترقی پر توجہ مرکوزکررہا ہے۔

واضح رہے کہ چین سعودی عرب سے خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔چینی کسٹمز کے فراہم کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب سے چین کی تیل کی درآمدات میں مارچ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 8۰8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔