.

کووِڈ-19:یواے ای نے بھارت سے آنے والی تمام پروازیں معطل کردیں 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے بھارت سے آنے والی تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کردی ہیں۔اس نے یہ فیصلہ بھارت میں کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد تین لاکھ سے متجاوز ہونے کے بعد پیشگی احتیاطی تدبیر کے پیش نظر کیا ہے۔

یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی اے اے) اور نیشنل ایمرجنسی کرائسیس اینڈ ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سیما) نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ بھارت سے تمام ملکی اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کے ملک میں داخلے پر پابندی ہوگی۔البتہ یواے ای سے گذرکر بھارت جانے والی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

جی سی اے اے نے مزید وضاحت کی ہے کہ بھارت سے روانہ ہوکرپہلے کسی دوسرے ملک میں جانے والے مسافروں کووہاں 14 روز تک قیام کرنا ہوگا اور پھر وہ یواے ای میں داخل ہوسکتے ہیں۔

البتہ یواے ای کے شہری اور نجی جیٹ طیاروں میں آنے والے مسافر اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق جی سی اے اے نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اماراتی شہری اور دونوں ملکوں کے سفارتی مشن،سرکاری وفود،کاروباری حضرات کے طیارے اور گولڈن اقاموں کے حاملین اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔

البتہ ایسے افراد کو یواے ای میں پہنچنے کے بعد حفاظتی احتیاطی تدابیراختیار کرنا ہوں گی۔انھیں 10 روز تک قرنطین میں رہنا ہوگا،ہوائی اڈے پر کرونا کا پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ملک میں داخلے کے بعد چوتھے اور آٹھویں روز دوبارہ پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوں گے۔

نئے فیصلے کے تحت پی سی آر ٹیسٹ کا دورانیہ 72 گھنٹے سے کم کرکے 48 گھنٹے کردیا گیا ہے اور صرف کیو آرکوڈ والی لیبارٹریوں کے ٹیسٹ ہی قبول کیے جائیں گے۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دوست ملک بھارت میں کرونا وائرس کی وبا کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اب شہری ہوابازی کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اندرون اور بیرون ملک متعلقہ حکام سے روابط جاری رکھے جائیں گے۔

اتھارٹی نے اس فیصلے سے متاثرہونے والے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ فضائی کمپنیوں سے رابطہ کرکے اپنی پروازوں کے شیڈول میں ترمیم کرواسکتے ہیں تاکہ ان کی منازل مقصود تک محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔

مقامی میڈیا کے مطابق بھارت اور یو اے ای کے درمیان فضائی راہداری دنیا کے شہری ہوابازی مصروف روٹس میں سے ایک ہے اورنئی پابندی کے نفاذ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان ہفتے میں تین سو پروازیں چلتی رہی ہیں۔

بھارت میں اس وقت کرونا وائرس کی تیسری لہر چل رہی ہے اور جمعرات کو ملک میں کووِڈ-19 کے 314835 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔اب تک یہ ایک دن میں کسی ملک میں کروناوائرس کے سب سے زیادہ تشخیص شدہ کیس ہیں۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت مغربی اور شمالی ریاستوں کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بحران سے دوچار ہیں ،بیشتر اسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر چکے ہیں اور ان کے پاس آکسیجن ختم ہوتی جارہی ہے۔